حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذوق جمال |
|
الباری میں کیا ہے کہ آپ ﷺشہدکو کبھی روٹی کے ساتھ،گاہے پانی اور بعض اوقات دودھ میں ملا کر استعمال فرماتے تھے شہد کے بے شمار طبّی و غذائی فوائد ہیں رسولِ رحمت ﷺکی مٹھاس اور شیرینی پہ اس قدر نظر تھی کہ کسی بچے کو آپ ﷺکی خدمت میں لایا جاتا تو کھجور چبا کر یا شہد کی گھٹی سے اس کی’’مہمان نوازی ‘‘ فرمایاکرتے اس میں ایک حکمت یہ تھی کہ نومولود پر نرم دلی،شگفتہ مزاجی اور شیریں لسانی کا غلبہ رہے۔ بقولِ اقبال ؎ آہ بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر جنّت میں جہاں حُورو غلمان اور شرابِ طُہور کی باتیں ہیں وہاں اس کے درختوں ، میٹھے پانی اور پاکیزہ مٹی کے ساتھ باغوں کا ذکر ہے۔سیدنا مُحمد کریم عَلیہ السَّلام فرماتے ہیں : وہاں شجر کاری کرواور خوب کرو (اس لیے کہ وہاں ہمیشہ رہنا ہے ) جب تم سُبْحَانَ اللّٰہ،اَلْحَمْدُللّٰہاوراَللّٰہُ اَکْبَرُکہتے ہواوراس کے ساتھ ’’لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘پڑھتے ہو جنّت میں پھل پھول اور بہت لمبے لمبے سایہ دار درخت لگ جاتے ہیں (48)یہ پیغام جو اوپر لکھا گیا دراصل حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا ہے جو خود جنت میں رہتے ہیں (اس اُمّت کی باغبانی کو دیکھتے ہیں ) انہوں نے اُمّتِ محمّدیہ کے نام یہ ضروری اطلاع سیدنا محمد کریم ﷺکو اس ملاقات میں دی جو معراج کی رات ان دونوں نبیوں کے درمیان ہوئی (49)اس خُصوصی خبر کے اندر ایک اور پیغام یہ ہے کہ رسولِ رحمت ﷺکا وہاں مسلمانوں کو یاد کر نا اُمّت کے ساتھ انتہائی شفقت اورغم خواری کی علامت ہے کہ انہوں نے اس بابر کت اور ترقی کی رات میں بھی ہمیں نہ بھلایا،بقولِ میر انیس ؎ شبِ معراج رسولِ دوجہاں ؐسمجھا ہوں اس کے ہر تار کومیں رشتۂ جاں سمجھاہوں