أبواب الاطعمۃ
ارنب: کو بعض فقہاء اوائل نے جائز فرمایا ہے کیونکہ اور بعض جانور جو حائض ہیں ان کی ممانعت آئی ہے اس لیے اس کو بھی ناجائز کہا ہے، لیکن عندالجمہور جائز ہے۔
ضب: میں اختلاف ہے عندالحنفیہ حرام نہیں۔ کراہیت کی روایت ہے تحریمی بھی تنزیہی بھی۔ مگر راجح یہی معلوم ہوتاہے کہ تحریمی ہے ابن عباس کی روایت سے صراحۃ ثابت ہے کہ آپ ﷺ کا ترک تقذرا تھا۔ آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا جب معلوم ہوا کہ لحم ضب ہے ہاتھ کھینچ لیا اور بعض صحابہ نے اپنی طرف کو لے لیا۔
ضبع: کو امام صاحب حرام فرماتے ہیں کیونکہ نہی عن کل ذی ناب من السباع بڑی صحیح روایت ہے۔ ابن ابی عمار کی روایت سے جس کو ترمذی حسن صحیح فرماتے ہیں وہ بڑھی ہوئی ہے اور دوسری روایت أو یاکلہ احد سے صریح ممانعت ثابت ہے اور اگر یہ روایت نہ ہوتی تب بھی حرمت سباع کے لیے پوری دلیل ہے۔ ضبع کا من السباع ہونا ظاہر ہے۔ باب الحج کی روایت کا جواب وہاں گزرچکا فلینظر ثمہ۔
لحم خیل: عندالحنفیہ مکرو ہ ہے کیونکہ نہی عن لحوم الخیل روایت ہے گو روایت ضعیف ہے اور نیز یہ آلہ جہاد ہے اور لحم خیل کا کھایا جانا آپ ﷺ کے زمانہ میں کہیں بہت ہی شاذ ونادر ثابت ہوتاہے اس میں بھی تحریمی وتنزیہی ہر دو روایتیں ہیں مگر راجح یہ ہے کہ اس میں کراہت تنزیہی ہے اور اسی طرح سور ہرہ میں تنزیہی راجح ہے البتہ ضب میں تحریمی راجح ہے کما مر۔
ثوم وبصل: کو بوجہ بدبو کے کھانا ناپسند فرمایا ہے۔ اگر پکے ہوئے میں بھی بدبو ہو تو اس کو بھی کھانا نہ چاہئے۔ اور کچا کھاکر مسجد میں نہ آنا چاہئے۔
المؤمن یأکل فی معا واحد بعض نے کہا ہے کہ الف لام عہد خارجی کے لیے ہے یعنی فلاں کافر اور فلاں مومن۔ یا کہا جائے کہ مومن کامل کم کھاتاہے۔ اور اس تکلف کی ضرورت نہیں سیدھا مطلب یہ ہے کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کم کھاوے اور اس کو ایسا ہونا چاہئے۔ اور کافر کی شان اس کے خلاف ہے۔ (معاء سبعہ اور واحد کنایہ کثر وقلت اکل سے ہے ورنہ امعاء سب کے برابر ہوتے ہیں)
جلالۃ: وہ جو کثرت نجاست کی وجہ سے اس کا لحم بدبودار ہوجائے اس کا گوشت مکروہ تحریمی ہے۔
حباریٰ:کو فارسی میں تغدر اور ہندی میں کرمانک کہتے ہیں ایک بڑی قسم کا ہوتاہے اس کو تغدر اور چھوٹے قسم کو تغدری کہتے ہیں۔ چھوٹی قسم کا اس طرف بھی ہوتاہے۔ بڑی قسم کا علاقہ پنجاب میں۔