سفرمیں صوم باتفاق حنفیہ وشافعیہ جائز ہے دو روایتیں جومخالف معلوم ہوئی تھیں امام شافعی نے ان کی تاویل کردی۔ کراہت صرف دوصورتوں میں ہے یا یہ کہ اس کا دل رخصت کو قبول نہ کرے۔ یا وہ محنت اٹھاتاہے اور مشقت میںپڑتا ہے کیونکہ جو شخص باوجود محنت ومشقت کے افطار نہ کرے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کے دل کو قبول رخصت میں کچھ دغدغہ وشک ہے۔غرض جب یہ ہر دو علتیں مفقود ہوں تو جائز بلکہ مستحب وافضل ہے۔ (شوافع کی ایک روایت وقول حنفیہ کے مخالف بھی ہے راقم)سفر میںروزہ شروع کرکے توڑنا بہتر نہیں کوئی وجہ پیش آجائے تو مضائقہ نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل افطار محول علی الضرورت ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے صائم ہی نہ ہوں۔ لقاء عدو میں افطار کی بعض مطلقا اجازت دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ روزہ رکھے اورلڑتا رہے جب ضعف وضرورت محسوس ہو افطار کرلے۔ لقاء عدو کے افطار میںیہ حضرات سفر کی شرط بھی نہیں کرتے۔
ابواب
حاملہ ومرضعہ عندالامام صرف قضا کریں اور عندالشوافع قضا کے ساتھ فدیہ بھی دیں صوم عن المیت کی روایت میں ہر دو احتمال ہیں۔ ابن عمرکی روایت (لایصوم احد عن احد) کی وجہ سے اس کے بھی وہی معنی لئے جاویں گے کہ وہ چیز دو جس سے صوم ادا ہوجائے یعنی فدیہ دو۔ میت کی طرف سے عندالامام وصیت کے بعد دینا واجب ہے اور اگربلاوصیت بھی دے تو تبرع ہوجائے گا۔
قے عمدامیں قضا آئے گی اور بلا عمد میں قضا نہیں وعلیہ الحنفیۃ۔ نسیان میں باتفاق امام اعظم والشافعی قضاوکفارہ نہیں۔شوافع خطاء میں بھی واجب نہیںکہتے۔ امام صاحب افطار خطاء میں قضا واجب فرماتے ہیں۔ افطار متعمدا کرکے پھر قضا رکھنے سے ہر گز وہ فضیلت اور ثواب حاصل نہیں ہوسکتا وقت پرتھا گو کثرت صوم سے بہت ساثواب حاصل ہوجائے۔
باب کفارۃ الفطر الخ
امام صاحب ہر ایک مفطر کے استعمال سے وجوب کفارہ کے قائل ہیں۔شوافع صرف افطار بالاجماع کوموجب کفار کہتے ہیں۔اس شخص کے بارہ میں ہردو احتمال ہیں قاعدہ کا مقتضا تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الحال اس کو صرف کرلینے کی اجازت دیدی کہ پھر جب موجود ہوادا کردے اور مقتضائے رحمت تو یہ ہے کہ بوجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت کے وہ انکار خود استعمال کرنا ادائے صدقہ میں محسوب ہو اور ذمہ پر کچھ باقی نہ رہا۔ صاحب شرع کو اجازت ہے کہ وہ کسی خاص شخص کو کسی حکم وقاعدہ سے بری کردے۔
باب