صلی اللہ علیہ وسلم شراح اس کاجواب دیتے ہیں کہ ہکذا امرنا کامشار الیہ لانکتفی برؤیۃ معاویۃ کو نہ بناؤ بلکہ مشار اسلیہ یہ ہے کہ چونکہ ابن عباس سے کریب نے یہ نہ کہا کہ میں نے دیکھا ہے بلکہ رویت معاویہ وغیرہ کا ذکر کیا۔ پس ابن عباس نے فرمایا کہ ہم اس کا اعتبار نہیں کرتے لان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہکذا امرنا۔ شوافع کی حجت جب ہوتی کہ وہ صاف اپنی روایت کا اقرار کرتے اورپھر بھی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ معتبر نہ سمجھتے۔ ولا کذلک ہہنا۔ اس روایت میں دقت حنفیہ کو صرف اس وجہ سے ہوئی کہ ابن عباس ہکذا امرنا فرماتے ہیں ورنہ کہہ سکتے تھے کہ یہ ان کامذہب ہے اور وہ حجت ملزمہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہکذا کا مشار الیہ عدم اعتبار ہی کو رکھا جائے لیکن اس وقت دیکھنا چاہئے کہ وہ امرکونسا تھا جس کی وجہ سے ابن عباس امرنا فرماتے ہیں۔ تمام روایات میں کوئی امر اس بارہ میں نظر نہیں آتا۔ البتہ ممکن ہے کہ صومو الرؤیتہ وافطروا لرؤیتہ۔ سے ابن عباس نے یہ مطلب استنباط کیا ہو کہ بلا اپنی رویت کے دوسرے شہر کا اعتبار نہ کرو۔ پس انجام ومرجع وہی ابن عباس کااجتہاد ٹھہرا جس کو حجت ملزمہ کوئی نہیں مانتا۔ اورچونکہ اور کوئی روایت امر فرمانے کی موجود نہیں لہٰذا یہ احتمال گویا متعین ہی سمجھنا چاہئے اور سب سے بہتر یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ نزاع اس روایت میں کس چیز میں ہے فطر میں یا صوم میں۔ ظاہر ہے کہ صوم تو یہاں ایک روز بعد کو شروع ہواتھا۔ اب یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ اس شہادت سے رمضان کو ایک روز مقدم بنادیا جاتا بلکہ بحث یہ تھی کہ کریب کی شہادت کے موافق تیس دن پورے کرکے عید کرادی جائے یا اپنے حساب سے اکمال ثلثین (یعنی تیس دن پورے کرنے) کا یا رؤیت کا انتظارکیاجائے۔ ابن عباس نے فرمایا کہ ہم تو اکمال ثلثین کے بعد افطار کریں گے یا رویت ہوجائے ہکذا امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ یہ مسئلہ محقق ہے کہ ایک شخص کی شہادت رؤیت پر روزہ رکھاگیا ہوتو اس کے حساب سے تیس دن کے بعد بلاتحقق رویت عید نہیں ہوسکتی ہاں امام محمد کے نزدیک تبعا بقول الشہادۃ فی الصوم عید بھی اسی حساب سے تیس دن کے بعد ہوسکتی ہے۔
غرض اس طرح پر اس روایت میں خلاف مابین الامامین نہیں رہتا بلکہ اعتبار شہادت للفطر کاقصہ ہوگیا اور اختلاف مطالع کاجھگڑا نہ رہا۔
باب الفطر یوم تفطرون الخ
یعنی جماعت مسلمین جس روز اضحیٰ وفطر کریں وہ معتبر ہے چنانچہ وقوف عرفہ کے بعد اگر خبر ملے کہ وقوف دسویں کو واقع ہوا ہے تو کچھ حرج نہ ہوگا بلکہ وہی وقوف معتبر سمجھا جاوے گا۔ فجر احمر سے صبح صادق مراد ہے یہ غرض نہیں کہ احمرار تک اکل وشرب درست ہے۔
باب الصوم فی السفر