پر عصر آجاتا ہے اسکے سوائے صرف اشارات ہیں تصریح کہیں نہیں، دوسرا اختلاف مغرب کے انتہاء میں لیکن وہ کوئی بڑا خلاف نہیں بلکہ لغت پر دارومدار ہے چونکہ بیاض بعد الحمرۃ کو بھی’’ شفق ‘‘کہتے ہیں لہٰذا امام صاحب ؒ اسکو انتہائے مغرب ٹھہراتے ہیں امام شافعی ؒ سے یہ بھی مروی ہے کہ مغرب کا وقت صرف بقد رثلٰث رکعات یا خمس رکعات ہے چنانچہ آگے آئے گا اس حدیث امامت جبرئیل میں جو لوقت العصر بالامس ہے اس سے یہ مراد ہے کہ کل کے عصر کے وقت کے قریب یا یہ کہ اس روز کی انتہائے ظہر اس روز کے ابتدائے عصر کے وقت ہوئی۔ظل کل شیٔ سے مراد بالاتفاق علاوہ سایہ اصلی ہے ورنہ بعض مواسم اور بعض مواضع میں تو دوپہر ہی کو سایہ اصلی ایک مثل ہوجاتا ہے بلکہ کبھی زیادہ ۔ پس اگر اسکو علیٰحدہ نہ کیا جائے تو عین نصف النہار میں وقت عصر لازم آئے گا۔ تمام ائمہ وفقہاء ظل سے مراد سوائے سایہ اصلی لیتے ہیں۔
باب منہ
اس حدیث سے مثل و مثلین کی تصریح نہیں نکلتی مغرب کے بارہ میں اسمیں اور گذشتہ حدیث میں اختلاف ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ حدیث بالا دربارۂ مواقیت سب سے پہلی حدیث ہے اس بارے میں جو حدیث آئے گی وہ اسکے بعد کی ہوگی۔ دوسرے یہ کہ پہلی حدیث یعنی امامت جبرئیل کی حسن ہے اور صحیح ہے پس یہ زیادہ قابلِ اعتماد وانسب للعمل ہوگی۔
باب تغلیس بالفجر
بعض علماء نے مایُعْرفن من الغلس کے یہ معنیٰ کئے کہ مسجد کے اندر اس قدر تیرگی ہوتی تھی کہ پہچان نہ سکتے تھے کیونکہ مسجد نبوی ﷺ مقارب السقف اور تنگ تھی نہ بڑے وسیع دروازے تھے نہ روشندان غرض یہ ہے کہمایُعْرفن مسجد کے اندر کی حالت ہے باہر کی نہیں پس اسفروا بالفجر کے معارض نہ ہوئی۔ لیکن یہ بات دل کو لگنے والی نہیں۔ اکثر روایت اور بعض قرائن وشواہد سے آپ ﷺ کا غلس ہی میں پڑھنا ثابت ہے۔
وسیجیٔ بیانہ۔
بابُ الاسْفار
امام شافعی ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ اسفار سے وہ وقت مراد ہے کہ صبح صادق ہوجانے میں کچھ شک وشبہ باقی نہ رہے لیکن شوافع یہ تو بتلائیں کہ بھلا حالت شک میں جائز ہی کب ہے جو عدم شک کی صورت میں باعث مزید اجر ہو اور عدم اسفار یعنی حالت شبہ میں اجرکم لے نیز دوسری روایت میں کلما اسفرتم فھو اعظم للاجر آگیا ہے اسکا کیا جواب ہوگا امام صاحب ؒ کا مذہب اسفار کا مشہور ہے بظاہر وہ دوسری روایات کے خلاف معلوم ہوتا ہے ۔پس حقیقۃالامر یہ ہے کہ امام صاحب ؒ بیشک