اللّحد لنامیں لنا سے یا تو مراد آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات ہے یعنی میرے لئے لحد ہے یا لنا سے مراد اہل مدینہ اور غیر نا سے مراد اہل مکہ ہوں لیکن اوّل معنیٰ بھی متعین نہیں ہوسکتے کیونکہ آپﷺکی وفات کے بعد صحابہؓ میں نزاع پیش آیا کہ آپﷺکے لئے لحد ہونی چاہیے یا شق۔ پس وہ لوگ کوئی نص صریح سُنے ہوئے ہوتے تو کیوں نزاع کرتے اور آخر اس پر کیوں فیصلہ ہوتا کہ لحد وشق بنانے والوں میںسے جو کوئی پہلے آجائے وہ کام شروع کردے پس آپﷺکے فرمانے کا ماحصل یہ ہوگا کہ ہم مسلمانوں کے لئے لحد مناسب ہے اور دوسرے لوگوں کے لئے شق۔ لغیرنا سے ایک قسم کی کراہیت بظاہر سمجھی جاتی ہے مگر شق و لحد ہردو جائز ہیں لیکن بہتر لحد ہے کیونکہ آپﷺکو بھی لحد ملی ہے اور جس جگہ زمین قابل لحد نہ ہو یا اور کوئی وجہ ہو تو شق بلا مضائقہ جائز ہے۔
باب قطیفۃ
چھوٹی سی چادر پلہ دار جیسے جانماز وغیرہ، شقرانؓ صرف بچھادینے کو بیان کرتے ہیں دیگر روایات سے معلو م ہوتا ہے کہ وہ چادر نکال لی گئی تھی پس میت کے نیچے کوئی کپڑا وغیر بچھانا بہتر نہیں۔
باب تسویہ
تسویہ قبر کے یا تو یہ معنیٰ ظاہر ہیں کہ زمین کے برابر کردو اس صورت میں یہ زجر وتہدید پر محمول ہوگا کہ جو لوگ حد سے زیادہ بلند کردیتے ہیں انکو یہ سزا دو کہ بالکل زمین کے برابر کردو یا تسویہ سے مراد یہ ہو کہ حد معین کے برابر کردو اور معمولی بلند رہے (مشرف بمعنی بلند) قبر کو ایک شبر بلند کرنا چاہیے نہایت درجہ ایک ذراع یعنی دو شبر۔
باب کراہیۃ الجلوس
وطی قبور تو بالاتفاق ممنوع ہے لایجلس سے مراد یا تو بمعنی لغوی ہوں یا اعتکاف ومجاورت مراد ہے یا قضائے حاجت اکثر صحابہ ؓ واہل علم جیسے حضرت ابن عمر ؓ جلوس لغوی یعنی بیٹھ جانے کو جائز کہتے ہیں اور ممانعت سے جلوس لقضاء الحاجت مراد لیتے ہیں جلوس و مرور علی القبر کو جائز کہتے ہیں۔پس حاصل یہ ہوگا کہ نہ اتنی تعظیم کرو کہ قبلہ بنالو اور نہ اتنی تحقیر کہ بول وبراز ڈالنے لگو۔ اگر جلوس سے مراد اعتکاف ومجاورت ہو تو بھی مناسبت ظاہر ہے کہ نہ ان پر اعتکاف ومجاورت کرو اور نہ انکی طرف نمازیں پڑھو۔ تجصیص قبور ہرگز جائز نہیں جو بِناء بہ نیت قبر ہو ہرگز نہ چاہیے قبر خام رہے اور حلقہ پختہ بنایا جائے یہ بھی نہ چاہیئے۔ مٹی ڈالنی قبور پر جائز ہے۔
باب زیارۃ القبور