روایات سے ایسا ہی ثابت ہے۔ پس ان روایات ہی پر سب کا عمل ہے۔
باب تسویۃ الاولاد
تسویہ کوضروری سب کہتے ہیں اختلاف اسمیں ہے کہ عدم تسویہ میں بھی ہبہ درست ہوجائے گا یا نہیں؟ بعض کہتے ہیں کہ واجب الرد ہے اور صحیح نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کو جور فرمایا ہے۔
باب الشفعۃ
امام صاح شفعہ میں جار کاحق بھی قرار دیتے ہیں۔ جار الدار احق بالدار امام صاحب کی حجت ہے، دوسری وایت بھی موافق ہے۔ اذا وقعت الحدود کی روایت خلاف معلوم ہوتی ہے اور ائمہ کا یہی مستدل ہے۔ امام شافعی اس میں فلا شفعۃ سے مطلق شفعہ کی نفی فرماتے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ جار کو حق شفعہ نہیں پہنچتا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ شفعہ بوجہ شرکت جو ہو اس کی نفی ہے مطلق شفعہ اب بھی باقی ہے۔ شوافع کہتے ہیں کہ علت شفعہ یہ ہے کہ شفیع جو پہلے سے شریک ہے مؤنتہ تقسیم سے بچار ہے، جار میں یہ علت ہے نہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی علت ضرر جوار سے محفوظ رہنا ہے اور وہ شریک وجار میں عام ہے۔ الشفعۃ فی کل شئی کو شوافع بھی عام مانتے ، جمہور کامذہب یہ ہے کہ منقولات میں شفعہ نہیں کیونکہ ما لایقسم میں صورت شفعہ نہیں ہوسکتی۔
باب اللقطۃ
تعریف لقطہ کے لئے کوئی مدت معین نہیں بلکہ جس مدت کے اندازہ تک مالک غالبا اس کو تلاش کرتا ہو اس مدت تک تعریف چاہئے اس کے بعد صدقہ کردے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ خود ملتقط کو بھی اپنے تصرف میں لانا جائز ہے اور ابی ابن کعب اور حضرت علی کو معرض استدلال میں لاتے ہیں مگر حضرت علی کا جواب تو پری روایت آنے سے معلوم ہوجائے گا۔ باقی رہے ابی ابن کعب وہ بیشک اغنیاء صحابہ میں سے تھے لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ اس واقعہ کے وقت بھی غنی ہوں۔ اور عقلا بھی یہ بات ظاہر ہے کہ اس کو اصل مالک کی طرف سے صدقہ کرتاہے۔ پس مصرف صدقہ ہوناضروری ہے لہٰذا اگر خود غنی ہے تو رکھنا کیسے درست ہوگا؟ شے قلیل وحقیر میں تعریف وغیرہ کی ضرورت نہیں اسکا استعمال جائز ہے اگر خوف تلف ہو تو ایسے حال میں لقطہ کرنا واجب ہے۔
باب احیاء الارض
لیس لعرق ظالم حق: یعنی ظالم کے درخت کاحق زمین میں کچھ نہ ہو گا اور اس کا درخت اکھاڑ کر اس کے حوالہ کردیا جائے