پہلی ممانعت تو بالاتفاق رجال ونساء کو شامل تھی۔ اجازت میں اہل علم کا خلاف ہے۔ ایک فریق کہتا ہے کہ عورتیں بھی اجازت میں داخل ہیں اور لعنت زوارات القبور کی حدیث اجازت سے پہلی ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ عورتیں بحالہا ممانعت میں رہیں اور لعنت زوارات کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں انکے نزدیک عورتوں کا جانا مکروہ تحریمی ہے لکثرۃ جزعھن وفزعھن قلّۃصبرھن حضرت عائشہؓ کا قول وفعل مجوزین کے موافق معلوم ہوتا ہے اور انکی رائے اسی طرف معلوم ہوتی ہے لیکن لو شھدتُک الخ سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس زیارۃ کو پسند نہیں فرماتیں چنانچہ مروی ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر رویا کرتی تھیں جو لوگ مجوزین ہیں وہ بھی اسکے قائل ہیں کہ جانا خلاف مصلحت ہے۔ ثابت ہوا کہ اب ہرگز نہ جانا چاہیے گو اصل سے جائز تھا کالخروج الی المساجد۔
باب ثناء المیت
ثناء موجب دخول جنت ہے اور اسکا ذاتی و اصلی اثر یہی ہے لیکن ثناء کرنے والا بھی تو مومن و مسلم ہو(قال الأستاذسلمہ) اور میرے نزدیک تو ایک کی ثناء بھی کافی ہے بشرطیکہ کوئی مقبول بندہ ہو اور واقع میں مقبول بندہ ہے تو انہیں کی تعریف کریں گے جو لائق دخول جنت ہوں۔
باب ما تقدم
ولد کا ثواب بعض نے کہا ہے کہ صغیر اور نابالغ ہی پر منحصر نہیں۔ تحلۃً للقسم کنایہ قلت سے ہے۔ فرار من الطاعون اس لئے منع ہے کہ خلاف توکل اور گویا انکار تقدیر ہے۔ لاتھبطوا یہ اس لئے تاکہ نافہموں کا عقیدہ خراب نہ ہوجائے کیونکہ اگر کہیں ایسی جگہ داخل ہوا اوت اتفاقا تقدیر سے بیمار ہوگیا تو تعدیہ کا اعتقاد کر بیٹھے گا۔ اور مرض کو موثر بالذات سمجھکر عقیدہ خراب کرے گا۔
باب من احب لقاء اللّٰہ
حاصل جواب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ کراہت موت حالت دنیاوی میں معتبر نہیں بلکہ قرب موت میں آدمی رحمت اور رضوان اللہ کی خوشخبری پاکر لقاء اللہ کو دوست رکھتا ہے اور موت کو مکروہ نہیں سمجھتا ۔ حقیقت میں تو مومن موت کو مکروہ نہیں سمجھتا بلکہ علائق وعوائق دنیاوی میں پھنس کر اسکی طرف جو رغبت ہونی چاہیے تھی وہ مغلوب ہوجاتی ہے۔ ہاں عندالموت جب اُس طرف کے حالات منکشف ہوتے ہیں تو پھر زیادہ رغبت ہوتی ہے۔اسی طرح کفارو فساق کو اس وقت کراہت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے بسبب ظہور تکالیف وآلام اور عواقب کے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کہاجائے کہ کراہت ایک طبعی ہوتی ہے ایک عقلی پس موت سے کراہت طبعی ہے نہ کہ عقلی جیسے تلخ دوا کہ بالطبع مکروہ ہے لیکن