باقی حسب موقع اور سلوک بھی کرتا رہے تعظیم مرضعہ بہتر ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ آپﷺ کی مرضعہ (حلیمہؓ) کی بیٹی آئی تھی خود مرضعہ نہ تھیں۔
باب خیار الأمۃ
اس بارہ میں ہر دو قسم کی روایات موجود ہیں جن سے زوج بریرہؓ کا حر ہونا معلوم ہوتا ہے ایسی بھی ہیں۔ اور جن سے انکا عبد ہونا معلوم ہوتا ہے اس قسم کی بھی ہیں۔ امام صاحب ہر حالت میں امۃ کو اختیاردیتے ہیں خواہ زوج عبد ہو یا حُر۔ شوافع صر ف عبد ہونے کی حالت میں اختیار دیتے ہیں ، اس بارہ میں شوافع کے دلائل حنفیہ کو مضر نہیں البتہ حنفیہ کی حجۃ نہیں بن سکتے ۔ لیکن حنفیہ کے دلائل شوافع کو مضر ہونگے۔ اگر اس تعارض کو علی وجہ اصول الفقہ رفع کیا جائے تو قول مثبتِ زیادۃ اولیٰ ہوتا ہے نافی سے اور جبکہ انکا ابتدائً عبد ہونا مسلم ہے تو جو راوی انکو حر کہے گا وہ مثبت زیادۃ ہوگا۔ یا کہا جائے کہ تعارض ہی نہیں کیونکہ زوج بریرہ ؓ عتق بریرہ عبد بھی تھے اور حُر بھی تھے۔ البتہ عبد تو عتق بریرہ سے بہت پہلے تھے اور عتق بریرہ سے کچھ پہلے حر بھی ہوگئے تھے اور پھر اسی طرح عتق بریرہ تک حُر ہی رہے اب رواۃ نے انکو عبد صرف پتہ ونشان کے لئے کہا ہے جیسے ہم کسی کے تشخصات میں ذکر کریں کہ ہم سے فلاں شخص ملے اور مدرسہ کے طالب علم تھے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بوقت ملاقات بھی طالبعلم ہی ہوں ۔ امِ حرام بنت ملحان کو ہر ایک راوی کہتا ہے کہ وکانت تحت عبادۃ بن الصامت حالانکہ جس قصّہ کو بیان کرتے ہیں اسکے بعد نکاح ہوا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ تعارف و تشخص کے لئے جس صفت کو ذکر کریں اسکو یہ لازم نہیں کہ وہ صفت بوقت قصّہ موجود ہو۔
باب الولد للفراش
امام صاحب نے ظاہر حدیث پر اس طرح عمل کیا کہ اگر زوجین مشرقین میں بھی ہوں تو بھی ثبوت نسبت کا حکم فرماتے ہیں حتی کہ نووی کہ بھی یہ کہتے ہی بن پڑا کہ امام صاحب نے یہاں بہت جمود علی الظاہر کیا ہے یہی ہیں وہ امام صاحب جنکو لوگ صاحب الرائے کہتے ہیں بعض علماء نے امام کے مذہب کی اس طرح توجیہ وتائید کی ہے کہ ممکن ہے کہ تلافی زوجین باوجود بعد المشرقین بطور خرق عادت ہوجائے۔ لیکن جب نص صریح موجود ہے پھر اس قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں۔ عبد بن زمعہ کے قصّہ کا فیصلہ جو آپﷺ نے فرمایا اس سے صاف امام کا مذہب نکلتا ہے ۔ اور معلوم ہوجاتا ہے کہ الولد للفراش کی کس قدر رعایت ہے۔
باب یری المرأۃ فتعجبہ
یہ علاج انکے لئے ہے جنکی طبع سلیم ہو کیونکہ ضرورت اور خواہش کے وقت بلا اختیار اس قسم کی رغبت پیدا ہوتی ہے کسی