واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کا یہ حال تھا کہ کسی دوسرے کے ساتھ ہونے والے احسانات کا علم کم ہی ہوتا تھا اس لئے ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ حضرتؒ مجھ سے زیادہ محبت فرماتے ہیں مدرسہ کے سب ہی اساتذہ ہر اعتبار سے حضرت ؒ سے بہت چھوٹے تھے۔ لیکن حضرت سب کواپنا محترم اور مخدوم بناکر رکھتے تھے اگر کبھی کسی استاذ نے تنخواہ لینے کیلئے حضرت ؒ کے پاس جانے میں تاخیر کردی تو حضرت اسکی قیام گاہ پر تشریف لاکر خود تنخواہ عنایت فرماتے تھے ۔ طلباء کے ساتھ اپنی اولاد سے بھی زیادہ شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے۔ ان کی ہر طرح کی فکر فرماتے، طلباء کو کھانا تو مدرسہ سے ملتا ہی ہے۔ کسی غریب طالب علم کے پاس کپڑے نہ ہوتے تواسکی بھی فکر فرماتے وقتا فوقتا ایسے طلباء کو نقد روپئے پیسے بھی دیتے۔ ان کی دوا علاج کا بھر پور اہتمام فرماتے مدرسہ کے ایک طالب علم کے چیِچک نکل آئی تھی، حضرت ؒ سفر میں تھے تین چار دن کے بعد سفر سے آئے آتے ہی مدرسہ اور اہل مدرسہ کی خیریت دریافت کی جب اس طالب علم کی چیچک کا علم ہوا تو بے چین ہوگئے اور فوراً باندہ واپس جانے کا ارادہ فرمالیا ہم لوگوں نے ہر چند عرض کیا کہ آپ ابھی طویل سفر سے تشریف لائے ہیں ، سخت گرمی کا وقت ہے کسی کوبھی اپنا خط لیکر باندہ کے کسی ڈاکٹر کے پاس بھیج دیئجے۔ لیکن کسی طرح ہم لوگوں کی درخواست قبول نہیں فرمائی اورسخت دھوپ میں باندہ تشریف لے گئے۔ اس وقت باندہ جانے کیلئے دو کلو میٹر پیدل چل کر بس سے جانا پڑتا تھا، بس کا انتظام بھی بہت اچھا نہ تھا، خصوصا دوپہر میں تو بعض اوقات کافی انتظار کرنے پر بس ملتی تھی اتنی دیر لو کے تھپیڑوں سے ہی واسطہ پڑتا تھا، حضرت مدرسہ سے تقریبا بارہ بجے روانہ ہوئے تھے اورتین بجے باندہ کے کئی ڈاکٹروں کو لیکر جوسب ہی حضرتؒ سے نیاز مندی کا تعلق رکھتے تھے تشریف لائے ڈاکٹروں نے اس طالب علم کو دیکھا اور حضرت کو اطمینان دلایا جب تک وہ طالب علم صحت یاب نہ ہوگئے تب تک حضرتؒ ان کی تیمارداری اور دوا علاج کی فکر خود فرماتے رہے۔ ایک بار ایک پرانے شاگرد کی کسی بات پر ذکر فرمانے لگے، اس شخص کا میں نے پیشاب پاخانہ دھویا ہے اورفرمایا یہ حقیقت ہے مبالغہ نہیں ۔