واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
ہجے بھی نہ لگاسکے اورکہنے لگے کہ میں پڑھ لیتا ہوں لیکن آپ کے ڈر اور رعب کی وجہ سے یہاں زبان رک گئی ہڑبھڑا گیا، حضرت نے مدرس سے فرمایا کہ ان کوباہر لے جاؤاوران کا سنو باہر جاکر مدرس صاحب نے سنا اور آکر بتایا کہ ان کو کچھ بھی نہیں آتا ہجے بھی نہیں لگاسکتے حضرت نے ان سے فرمایا جب تم کو خود ہی نہیں آتا تو کیسے پڑھاؤ گے وہ صاحب کہنے لگے مجھے آتا ہے بچوں کو پڑھالوں گا مدرس صاحب نے بتایا کہ ان کو قاعدہ پڑھنابھی نہیں آتا، حضرت نے ان سے فرمایاکہ ایسا ہے کہ کچھ دن کیلئے تم یہاں رہ جاؤ خوب محنت سے پڑھو میں تم کو کھانا اور رہنے کیلئے کمرہ اورتنخواہ بھی دونگا کچھ دن پڑھ لو پھر پڑھانے چلے جانا کہنے لگے ابھی بھیج دیجئے وہاں جومولوی صاحب ہیں ان ہی سے پڑھتا رہوں گا حضرت نے فرمایا یہ تو نہیں ہوگا، یہیں رہ کر پڑھئے ورنہ چھوڑ دیجئے، ان کے لئے ایک قاعدہ منگایا گیا، کہنے لگے یہ تو مجھ کو آتا ہے، حضرت نے فرمایا آتا تو ہے لیکن اس میں آپ کو پڑھانے کا طریقہ بھی بتلایا جائے گا۔ چنانچہ وہ نورانی قاعدہ کی مشق کرکے لائق بن گئے ۔ ایک مرتبہ حضرت کو اپنے مدرسہ میں ایک قاری و مجوّد کی ضرورت تھی ایک صاحب پر اعتماد کرتے ہوئے ایک قاری صاحب کو بلالیاگیا ان سے نمازیں پڑھوائیں گئیں لیکن معلوم ہوا کہ چند رکوع کی مشق تو کرلی ہے خوب گالیتے ہیں لیکن فن سے مناسبت نہیں تلفظ بھی پورے طورپر صحیح نہیں ادا ہوتے حضرت نے ان سے بھی فرمایا کہ کچھ دن آپ یہاں بڑے قاری صاحب سے پڑھتے رہئے مشق کرتے رہئے اور پڑھاتے بھی رہئے میں آپ کو تنخواہ پوری دونگا۔ لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوئے اور چلے گئے آج تک ان کا پتہ نہیں کیا حال ہے۔ (افادات) (ف) حضرت والانے سینکڑوں اس قسم کے ناقص افراد کے نقائص کی اصلاح کرکے باکمال و لائق بنایا ہے اور اس طرح خام مال کی خامی دور کرکے پختہ مال اپنے کارخانہ سے تیارفرماکردوسرے تعلیم گاہوں میں سپلائی فرماتے رہے۔