واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
یہاں داخلہ ہوسکتا ہے؟ متولی صاحب نے بڑی ہمدردی کی اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا اور داخلہ کے سلسلے میں حضرت کی رہنمائی فرمائی۔ ادھر مدرسہ مظاہر علوم میں ہلچل مچ گئی کہ آخر مولوی حافظ صدیق گئے تو کہاں وہ تو کبھی مدرسہ اوردرجہ سے غائب نہ ہوتے تھے تلاش شرو ع ہوئی ۔ مسجد ۔ مدرسہ باغ ، میدان مزارات اور ممکنہ مقامات میں خوب تلاش ہوئی، کسی نے حضرت کو کہیں نہ پایا بالآخر دو طالب علموں نے خبر دی کہ پرسوں کی بات ہے کہ بازار کے قریب فلاں فلاں طالب علم حضرت کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کررہے تھے ہم لوگ آگئے تو وہ سب بھاگ گئے اسکی اطلاع ناظم صاحب اور دوسرے حضرات کو ہوئی۔ ان شریر طلباء نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ فوراً بھاگ لیا جائے ورنہ نہ معلوم کیا حشرہوگا۔ چنانچہ وہ شری طلباء بھی مدرسہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ادھر ایک شخص جودہلی سے ہوتا ہوا سہارنپور پہونچا تھا اور حضرت سے مدرسہ امینیہ میں ملاقات و گفتگو بھی کرچکا تھا اس نے جب مظاہر علوم میں آکر یہ ماحول دیکھا تو کہا کہ میں نے تو ان کو مدرسہ امینیہ میں دیکھا تھا حضرت ناظم صاحب نے کرایہ دیکر ایک طالب علم کو بھیجا کہ جاؤ ان کو بلالاؤ حضرت کا مدرسہ امینیہ میں اس وقت داخلہ ہوچکا تھا لیکن حضرت ناظم صاحب کے بلانے سے حضرت تشریف لے آئے ندامت سے حضرت کا سرجھکا جاتا تھا، کسی سے ملاقات کرنے اورنگاہ اٹھاکر دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، کھوئی ہوئی چابی کا تو کوئی تذکرہ ہی نہیں ، حضرت کے اساتذہ نے صرف اتنا فرمایا کہ ’’ ارے صدیق بیٹا تم کہاں چلے گئے تھے ہم سب پریشان تھے تم کو بہت تلاش کیا کوئی پریشانی کی بات تھی تو ہم سے بتلانا چاہئے‘‘ حضرت اقدس پھر حسب سابق تعلیم میں مصروف ہوگئے اور وہ شریر طلباء جو حضرت کے پیچھے لگے تھے علم سے محروم ہوگئے، اپنا نقصان کیا، اور آج تک ان کا پتہ نہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا۔ بہر حال حضرت نے سالانہ امتحان اطمینان سے دیا بعدہ وطن تشریف لائے۔ (حیات صدیق)