واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ایک روز کی بات ہے حسب معمول حضرت اقدس اپنے استاذ کے لئے سامان ضرورت سے بازار خریدنے گئے تھے راستہ میں دیکھا کہ وہی بعض شری طلباء حضرت کے انتظار میں کھڑے ہیں قریب آتے ہی حضرت کو آگھیرا اورمارنے کا ارادہ کیا حضرت کے دونوں ہاتھ پکڑلئے اور کہنے گے کہ بتاؤ یہاں تم کو کون بچائے گا۔ اللہ پاک کو حفاظت مقصود تھی چنانچہ اسی درمیان مدرسہ کے چند طلباء سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو بازار سے واپس آرہے تھے جو اگرچہ حضرت کے ساتھی نہ تھے لیکن حضرت کو پہچانتے تھے ان طلباء کو دیکھتے ہی شریر طلباء بھاگ کھڑے ہوئے۔ حضرت بعافیت سامان خرید کر مدرسہ واپس تشریف لائے اور مدرسہ آکر حضرت نے کسی سے اسکا چرچہ تک نہ فرمایا محض اس وجہ سے کہ خواہ مخواہ بات آگے نہ بڑھے اور پارٹی بندی کی شکل نہ ہوجائے۔ کیونکہ درجہ کے ساتھیوں میں حضرت کے موافقین اور تکرار کرنے والوں کی تعداد خاصی تھی۔ اور اپنے بڑوں مدرسہ کے ذمہ داروں سے بھی مصلحت کے خلاف سمجھ کر شکایت نہ فرمائی کیونکہ شکایت کرنے سے ضد بڑھتی اور آئندہ کے لئے مزید خطرات پیدا ہوتے۔ ایسی حالت میں حضرت سخت تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوچکے تھے غوروفکر کے بعدحضرت نے ذاتی طورپر مدرسہ چھوڑ کر چلے جانے ہی میں عافیت سمجھی اسکے سواء مناسب بے خطر کوئی شکل نظر نہ آئی۔ اسی درمیان میں حضرت مولانا عبداللطیف کے ذاتی کتب خانہ کی چابی جو حضرت کے پاس رہا کرتی تھی اچانک گم ہوگئی اس کی وجہ سے حضرت کی پریشانی اور بے چینی میں اور اضافہ ہوگیا۔ اسی پریشانی کے عالم میں حضرت اقدس راتوں رات مظاہر علوم سہارنپور سے ہجرت فرماکر مدرسہ امینیہ دہلی تشریف لے گئے ایک غریب اجنبی پر آگندہ مظلوم مسافر پژ مردہ چہرہ کے ساتھ مسجد کے گوشہ میں فکر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ شام ہوئی رات ہوئی مسجد کے متولی صاحب نے پوچھ گچھ شروع کی۔ کیسے آئے؟ کہاں سے آئے؟ کیوں آئے؟ حضرت نے اپنے کو چھپاتے ہوئے فرمایا داخلہ کی غرض سے آیا ہوں کیا