واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اہتمام تھا مفتی زید صاحب اپنا مشاہدہ بتلاتے ہیں کہ بچپن میں حضرت کے گھر جانا ہوتا تھا آپ اکثر عبادات و نوافل میں مشغول نظر آتی تھیں ایک مرتبہ بعد مغرب عشاء کے وقت گیا دیکھا کہ حضرت کی والدہ سجدہ ہی میں پڑی ہیں اورخاصی دیر کے بعد سجدہ سے سر اٹھایا لمبی لمبی دعائیں مانگا کرتی تھیں ایک مرتبہ حضرت کے سر میں شدید درد ہوا اور مستقل درد رہنے لگا تو سجد ہ میں پڑ کر زور زور سے دعاء کرتی کہ اے اللہ میرے بیٹے کو صحت دے دے اور دنیا میں اسکا نام روشن کردے اللہ پاک نے والدہ کی دعاء کوبیحد قبولیت سے نوازا صحت ہوئی اور نام توایسا روشن ہوا کہ ملک بھر میں مسلم و غیر مسلم بھی آپ کے ذکر سے رطب اللسان نظر آنے لگے۔ والدہ مرحومہ کی سادگی درس عبرت تھی حال یہ تھا کہ آپ کا لباس پیوندوں کا مجموعہ نظر آتا تھا اس کثرت سے پیوندکی نوبت آجاتی کہ یہ پتہ لگانا مشکل ہوتا کہ اصل کپڑا اس میں کون سا ہے ۔ بستر بھی ایک گدڑی نماٹاٹ کی مانند ہوتا مہمانوں کی آمد پر حال کا اخفا کیا جاتا اور مہمانوں کیلئے ادھر اُدھر سے انتظام کردیا جاتا آخر میں جب نئے کپڑے بنوائے جاتے یا ہدیہ آتے تو وہ غریب محتاجوں اور مسکینوں کی نذر فرمادیتی اور پھر وہ فقیری میں شاہی کا نقشہ برقرار رہتا۔ خصوصاً والد کے مرحوم ہونے کے بعد والدہ نے نیا کپڑا کبھی نہیں پہنا بلکہ کھانا بھی تازہ نہیں کھایا تازہ بھی باسی ہی کرکے کھایا یہ ان کا خصوصی ایک عمل تھا۔ خدمت خلق آپ کا شیوہ تھا۔ مسلم وغیر مسلم سبھی کے کام آتیں جب بھی کسی کے یہاں کوئی پریشانی کی بات پیش آتی اسکی خبر گیری فرماتیں جامعہ عربیہ کے ابتدائی دور میں تو درجنوں طلباء کے خورد نوش لباس و پوشاک کے معاملہ میں اولاد جیسا سلوک فرماتی رہیں مدرسہ کی اپنے گھر کی طرح خدمت کرتی رہیں اوران ہی دینی قربانیوں کو انجام دیتے دیتے پیرانہ سال میں رمضان المبارک کے مبارک ایام میں اپنے رب سے جاملیں ۔ (حیات صدیق)