واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ابوبکر صدیق ہیں ) نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : انہیں (حضرت اقدس کی طرف اشارہ کرکے) پہچانتے ہو؟ تو ان صاحب نے فرمایا نہیں نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا(یہ مولوی صدیق ہیں اور دوبارہ فرمایا) ’’ارے ہمارے مولانا صدیق۔‘‘ احقر جمیل احمد فراشخانہ کانپور، مورخہ ۲۳؍اگست ۱۹۸۹ء یہ خواب حضرت نے ۲۱/ اگست کی شب میں کھنڈوا کے ایک سفر کے بعد دیکھا۔ جو حضرت کی علمی و تبلیغی جدوجہد کے اعتبار سے بہت کامیاب رہا تھا کہ حضرت کی خواہش کے مطابق وہاں مدرسہ کا کام شرو ع ہوگیا تھا۔ اور اٹارسی وغیرہ بھی تشریف لے گئے تھے۔ ۲۳؍اگست کوکانپور تشریف لے جانے پر سنایا۔ بین القوسین عبارتیں اس وقت سے اب تک جو احقر کو محفوظ ہے اوراحقر کے پاس محفوظ ہے اس کے مطابق میں نے اضافہ کیا ہے، حضرت نے جب میرے سامنے خواب بیان فرمایا تو فرمایا’’اب بھی نگاہوں میں پورا نقشہ ہے۔‘‘بعد میں اس بابت احقر نے ایک بات پوچھی توایسا محسوس ہوا کہ اس خواب کو ذکر کرتے ہوئے حضرت ایک خاص لطف و سرور کے حال و کیف میں رہتے ہیں اور کیوں نہ ہوتا خواب ہی ایسا تھا۔ اس پس منظر کے مطابق یہ بڑی بشارت تھی۔ قبر کا کھودنا۔ اور اندر سے روشنی و چمکیلی مٹی کا نکلنا۔یہ علم وسنت جومردہ پژمردہ ہو کر مدفون ہوچکے تھے ان کا احیاء ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق کا دیکھنا بظاہر ان کے مشہور جملے کی نسبت ہے۔ بشارت ہے۔ میرے جیتے جی دین کا نقصان ہوجائے یہ نہیں ہوسکتا حضرت کی یہی شان تھی۔ (۲) ذی الحجہ ۱۳۹۷ھ میں حضرت شدید بیمار ہوئے چند دن سبق کا بھی تعطل