واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کراکر فوراً رخصت کردینا، واپسی کیلئے گاڑی بھی طے تھی۔ حضرت مولانا ٹھیک عشاء کے وقت جلسہ گا ہ پہنچ گئے، جلسہ گاہ میں دیکھا کہ ضرورت سے کافی زائد روشنی اعلی قسم کا شامیانہ اورسجاوٹ، اسٹیج بھی پرتکلف قطار وار کرسیاں لگی ہوئیں ، لیکن کوئی ایک فرد بھی نہ سننے والا نہ بولنے والا نہ کسی منتظم کا پتہ نہ مقرر کا، حضرت اقدس نے رفقاء سفر سے فرمایا دیکھو یہ ہے اصلاح معاشرہ اورناراضگی سے فرمایا کہ کہاں ہیں جلسہ کے منتظمین میری ان سے ملاقات تو کراؤ ایسے ہوتی ہے معاشرہ کی اصلاح ، اس طرح مال خرچ کرکے سجاوٹ میں فضول پیسہ برباد کرکے کہیں معاشرہ کی اصلاح ہوتی ہے۔ یہ لوگ پہلے اپنی اصلاح کریں معاشرہ کی اصلاح تو بعد میں کریں ۔ منتظم صاحب بلائے گئے حضرت نے ان کو نہایت نرمی اورخوش اسلوبی سے تنبیہ فرمائی اورفرمایا کہ آپ نے کیا وعدہ کیا تھا؟ آخر جلسہ کب تک شروع ہوگا۔ میں آگیا ہوں مجھ سے تقریرکروالیجئے اورمجھے جلدی رخصت کردیئجے۔ حضرت اقدس کی اتنی تاکید کے بعد بھی جلسہ کی کارروائی شروع نہیں ہوئی اورمعلوم ہوا کہ ۱۱بجے حضرت کی تقریر کرائی جائے گی حضرت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ یہ وعدہ خلافی نہیں ہے؟ کیا یہی اصلاح معاشرہ ہے؟ اور رفیق سفر سے فرمایا کہ جلد گاڑی کا انتظام کریئے مجھے فوراً واپس ہونا ہے مجھے ایسے جلسہ میں شریک نہیں ہونا ہے، لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ میں خالی بیٹھا رہتا ہوں جیسے میرا کوئی کام نہیں ، کسی طرح مشکل سے تو میں نے وقت نکالا تھا ، اس میں ان لوگوں نے یہ حرکت کی میرا تو ایک ایک منٹ مشغول ہے۔ لوگوں نے عرض کیا حضرت غلطی ہوگئی، جیسا آپ فرمائیں گے ویسا ہی ہوگا، بالآخر جلسہ کا آغاز ہوا اور منتظمین نے عرض کیا کہ حضرت آپ کی تقریر پہلے کرادی جائے جلسہ ہوتا رہے گا’ حضرت نے فرمایا اب آپ لوگ جو چاہیں کریں آئندہ کے لئے مجھے سبق مل گیا، اس طرح کے جلسہ میں آؤں گا نہیں ، اب آپ لوگوں نے جیسا طے کرلیا ہو ویسے ہی نظام چلائیے، لوگوں کا عجیب مزاج بن گیا ہے، دینی جلسہ کریں گے، رات بھر