واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
دل کو مسرور ومطمئن کئے رہتی ہے دفعتاً وہ سب ترددات ختم ہوئے اور قلب پرسکون ہوگیا۔ احقر کے ایک گجرات کے ساتھی عشق میں مبتلا اور گرفتار محبت ہوگئے تھے ان کا برا حال ہوگیا تھا پاگل ودیوانہ جیسے ہوگئے انہوں نے حضرت سے اپنا حال بتایا حضرت نے ایک دعاء’’اللھم طہر قلبی عن غیر ک ونور قلبی بنور معرفتک واصلح لی شأنی کلہ‘‘کاغذ میں لکھ کر پڑھنے کیلئے دی اور تسلی آمیز کلمات کہے اسکے بعد اپنے گھر سے کھانا منگاکر ان کو کھلایا، انکا بیان ہے کہ معلوم ہوتا تھاکہ کوئی چیز دل سے نکل کر اڑ گئی اوردل بالکل پاک و صاف ہوگیا۔ ایک مرتبہ بھیونڈی میں حضرت کا بیان تھا مدرسہ کا جلسہ تھا آدھی رات کا وقت تھا مگر لوگ شوق میں بیٹھے ہوئے تھے فرمانے لگے کہ آپ لوگوں نے اجلاس کو خوب سجایا ہے ، محنت بھی کی ہے، پیسے بھی لگائے ہیں اور خوب خرچ کیا ہے، یہ سب کہتے ہوئے فرمایا کہ اگر سجاوٹ اور ٹھاٹ سے کچھ پیسے بچ گئے ہوں تو غریب مدرسہ کو بھی دیدیجئے یہاں بچے دین پڑھتے ہیں دین سیکھتے ہیں آپ کو دعائیں دیں گے اتنی سی بات پر بیٹھنے والوں کو اتنی غیرت آئی کہ لوگوں نے چندہ دینا شروع کیا اورتقریر شروع ہوتے ہوتے بیس ہزار روپئے برس پڑے۔ ایک مرتبہ لوگوں کے ہجوم سے گھبراکر اسٹیج پر آئے اور خوب جھاڑا کہ تم لوگ مجھ پر کیوں ٹوٹے پڑے ہو، آخر یہاں بڑے بڑے علماء تشریف رکھتے ہیں ، شیخ الحدیث بیٹھے ہیں تم ان سے مصافحہ بھی نہیں کرتے اور میرے اوپر گرے پڑتے ہو یہ کیا بات ہے اگر علم کی محبت ہے تو علماء موجود ہیں ، حدیث کی محبت ہے تو شیخ الحدیث موجود ہیں مگر ان حضرات کی تم کو کوئی قدر نہیں یہی تمہاری تباہی کا سبب ہے۔ تم علماء کو چھوڑ کر میرے اوپر اس لئے گرتے ہو کہ میں تعویذ لکھ دوں گا مگر علماء کی ناقدری تمہیں تباہ کردے گی۔ ان جملوں سے مجمع میں سناٹا چھاگیا اور دماغوں میں ہلچل مچ گئی۔