واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
ہوجانے پر چند منٹ کے خطاب میں فرمایا ’’دین کی باتوں کے لئے پتھر کھانا انبیاء کی سنت رہی ہے اور آج ہمارے چاہے بغیر طائف کی سنت زندہ ہوگئی، اس سے بڑی کیا بات ہوگی ہمیں تو شکرانہ پڑھنا چاہئے، اور میں نے پڑھی ہے بس اب یا تو یہ سب ہدایت پر آجائیں گے یا نالائقوں کا پتّہ صاف ہوگا یہی دستور خداوندی ہے۔‘‘ (تذکرۃ الصدیق) اس واقعہ کی تفصیل مفتی زید صاحب کی زبانی یوں ہے کہ تقریبا ۱۳۹۷ھ کا واقعہ ہے کہ احقر کے وطن قصبہ امرودھا ضلع کانپور جہاں اہل بدعت کا غلبہ ہے اور اہل حق کا مسجدوں میں داخل ہونا نماز پڑھنا بھی ممنوع ہے علماء اہل حق کی شان میں جو سخت گستاخیاں کرتے ہیں بدنصیبوں نے حضرت اقدس مولانا سید صدیق احمد صاحب کا پتلا بناکر پورے قصبہ میں گھمایا، اس کی توہین کی اور پھر جلایاگیا، حضرت اقدس کے بعض مریدین احقر کے والدین وغیرہ بڑی تنگی اور گھٹن کی زندگی بسر کررہے تھے قتل تک کی دھمکیاں دی گئیں ، اورمسجدمیں نماز نہ پڑھ سکنے کاسخت افسوس ہوتا تھا، محلہ کی دوقدم پر مسجد لیکن مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ایک مرتبہ بعض جماعت کے لوگ نماز پڑھ کر نکلے تو ان کو اس قدر ماراگیا کہ ہاتھ ٹوٹ گئے بدن زخمی ہوگیا، حضرت کے متعلقین ومریدین نے اپنے مکان کے احاطہ میں جلسہ کا نظام بنایا اور اپنی علیحدہ مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا، جلسہ کی شہرت ہوئی حضرت کا نام سن کر اطراف اور دور دراز سے کافی لوگ جمع ہوگئے، مشورہ ہو ا تو حضرت نے مسجد بنانے سے منع فرمایا اورفرمایا کہ اتنے قریب مسجد موجود ہے ایک وقت آئے گا انشاء اللہ مسجدآپ حضرات کے قبضہ میں ہوگی ابھی آپ لوگ گھر ہی پر نماز پڑھتے رہیں ، البتہ مدرسہ بنانا مناسب ہے، چنانچہ مکتب کی شکل میں ایک مدرسہ قائم ہوگیا۔ عشاء کے بعد حضرت کا پروگرام ہونا تھادو منزلہ مکان کی چھت پر مستورات کا