واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
حکومت کی مخالفت کرتے ہیں ؟ اس پر حضرت والا کو جلال آگیا اور خوب گرم انداز میں آفیسروں سے کہا کہ تم کو اتنی عقل نہیں ؟ اوراتنا بھی علم نہیں ہے کہ اختلاف اور مخالفت میں کیا فرق ہے؟ یہ بھی معلوم نہیں اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی ایک رائے رکھتا ہے اور مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ راستہ راستہ گلی گلی لوگوں سے کہتا پھرے کہ حکومت کا فلاں حکم نہ مانو میں ایک رائے رکھتا ہوں مخالفت نہیں کرتا، تمہارے اتنا شعور بھی نہیں ہے ، تم کیا حکومت کروگے تمہارے اندر حکومت کرنے کی کیا صلاحیت ہے، کیا انسان کو رزق دینے والے تم ہو، تم خدا کی قدرت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو؟ اس طرح دیر تک پھٹکارتے رہے باندہ کا ایس پی سٹی حضرت والا سے اچھی طرح واقف تھا اس نے کہا کہ بھائیو!باباجی بگڑ گئے، نارا ض ہوگئے، معافی مانگ لو، ورنہ تمہاری خیر نہیں نوکری سمیت سب کچھ خطرے میں ہے، تمہارے بال بچے تمہارے گھر سب تباہ ہوجائیں گے پھر تمام بڑے بڑے آفیسروں نے ہاتھ جوڑ کر معافی چاہی اورچلے گئے، یہ ہے ایمانی طاقت اور صحیح معنوں میں بندوں سے نڈر خدا کا خوف اوراس پر بھروسہ۔ (از مضمون مولانا شبیر احمد صاحب) اسی سلسلہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد یونس صاحب مدظلہ نے دورانِ درس حضرت والا باندوی کی حمیت دینی بے باکی ، حق گوئی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب فیملی پلاننگ کا زور چل رہا تھا کلکٹر وغیرہ نے حضرت کے پاس حاضر ہوکر رائے معلوم کرنے پر اصرار کیا تواب آیا حضرت کو سادات کا غصہ فرمایا لکھو حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے۔ اسکے بعد جب غیر مسلموں میں اسکی اطلاع ہوئی تو ہزاروں غیر مسلموں نے کلکٹریٹ کا محاصرہ کرلیا اورکلکٹر سے مطالبہ کرنے لگے کہ ہمارے بابا کو کیا کیا ہمارے بابا کو ظاہر کرو(گرفتار کرلیا گیا سمجھ رہے تھے) اورفرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک کو مدرسہ سے نکلتے ہی قے دست شروع ہوگئے تھے۔ (ناقل مولوی شریف احمد مظاہری) بیباکی حق گوئی اور حکمت عملی کا ملا جلا ایک واقعہ یہ بھی پڑھ لیجئے: