واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
کا مرحلہ آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت کا جدہ کا ریزرویشن نہیں ہے اور ہوبھی نہ سکے گا، بات چیت کے بعد مایوسی ہوگئی اور یہ ہوا کہ اب تو حضرت کو براہِ راست ہندوستان ہی جانا پڑے گا، حجاز کے جو دوسرے رفقاء تھے (افریقہ کے حضرات) وہ اپنے جہاز پر جاکر بیٹھ گئے کیونکہ جہاز تیار تھا، پھر بھی ایک صاحب ایک مرتبہ پھر گفتگو کو گئے اور حضرت سر جھکاکر انابت کے ساتھ بیٹھے اور تاثر کے ساتھ: ’’یا اللہ میں اس لائق نہیں کہ بلایا جاؤں ‘‘ ان صاحب نے جاکر بات کی اور حضرت کی طرف اشارہ کرکے کارکن کو متوجہ کیا، اتفاق سے اس وقت کاؤنٹر پر ایک خاتون بیٹھی تھی، نظر اٹھاکر حضرت کی طرف دیکھا اور قلم چلایا، کہا لاؤ اورجلدی بیٹھاؤ جہاز تیار ہے، بہر حال بھاگم بھاگ جہاز پر سوار ہوئے۔ حجاز سے واپسی براہ ممبئی ہوئی، ممبئی سے روانگی کے وقت باندہ اطلاع آگئی، گاڑی کے حساب سے لوگ اسٹیشن پر موجودتھے، بعد عشاء براہ جبلپور’’ قطب‘‘ ایکسپریس سے آنا تھا، گاڑی آئی تو حضرت نہ تھے، اس کے بعد دوسری گاڑی دیکھی گئی، اس میں بھی نہیں تھے، تو مانک پور اسٹیشن سے رابطہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ممبئی سے آنے والی گاڑی مانک پور تاخیر سے پہنچی تو دونوں گاڑیاں چھوٹ گئیں ، اب اگلی گاڑی سے آرہے ہیں ، چنانچہ لکھنؤ ایکسپریس سے بوقت فجر تشریف لائے اور ملاقات پر فو راً ہی فرمایا: ’’میں کھجور نہیں لاسکا ، کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں تھے، زمزم ایک شیشی میں تھا مگر گاڑی پر رہ گئی۔‘‘ یو ں افریقہ تاحجاز اور تاہند سفر اس درویش کا اس کی شایان شان رہا۔ (تذکرۃ الصدیق)