واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ملیں اگر چہ یہ حاضری چند ہی منٹ کی ہو، بہر حال ملاقات کی تو مولانا ندوی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اس وقت آپ کو اجازت نہیں ، آرام کیجئے اور صبح سفر فرمائیے۔ حضرت نے سرجھکا دیا اورحسب ہدایت آرام کے لئے دوسرے کمرے میں لیٹ گئے، اب جتنی دیر لیٹے ہوں ، بہر حال کچھ دیر بعد اٹھے اور مولانا علی میاں صاحب کے پاس پہونچے ، وہ بھی آرام فرمارہے تھے ان کے پیر دبانے لگے مولانا نے آنکھ کھولی دیکھا تو عرض کیا حضرت صبح تک پہونچنابہت ضروری ہے اجازت دیدیں ‘‘۔ ظاہر ہے اب اس صورتحال میں مولانا علی میاں صاحب کیا فرماتے ، حضرت کی اس اداکے سامنے سب مجبور ہوجاتے ۔ حضرت اپنے اس جذبۂ عمل کی وجہ سے دل میں یہ داعیہ رکھتے تھے کہ موت دیر سے آئے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حق تعالی سے مہلت لی ہے ، اور مہلت لیتا رہتا ہوں ، ایک زمانے تک یہی حال تھا، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاپ گڑھی علیہ الرحمہ لکھنؤ میں قیام پذیر تھے، ہمارے حضرت بھی لکھنؤ تشریف لے گئے ۔ قیام بھی رہا، واپسی کے موقع سے ملنے تشریف لے گئے اس موقع سے حضرت پرتاپ گڑھی علیہ الرحمہ نے اس قسم کی بات فرمائی: ’’بزرگوں کے بھی الگ الگ حالات ہوتے ہیں بعض تو لقاء خداوندی کے شوق و اشتیاق میں جلدی موت کی تمنا کرتے ہیں اوربعض مہلت مانگتے ہیں کہ کچھ اور کام کرلیں ‘‘۔ ہمارے حضرت علیہ الرحمہ نے اس پر فرمایا ’’حضرت کو کشف ہوگیا۔ ا س وقت میرے دل میں کچھ ایسی ہی بات تھی۔‘‘ (تذکرۃ الصدیق وغیرہ)