واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
عیدگاہ کے قریب تشریف لے گئے اورفرمایا کہ یہاں آکر تو مجھ کو اپنا تکیہ رائے بریلی یادآگیا وہاں بھی حضرت جنگل ہی میں قضاء حاجت کیلئے جایا کرتے تھے اگرچہ گھر میں بیت الخلاء موجود تھے لیکن چونکہ مہمانوں کے لئے اس وقت بیت الخلاء کا انتظام نہ تھا اور وہ باہر جاتے تھے اس لئے حضر ت مولانا علی میاں بھی باہر فراغت کے لئے باہر جاتے تھے وہاں بھی حضرت کے گھر اورمسجد کے قریب ایک ندی ہے یہاں (ہتھورا میں ) بھی نالہ ہے بہر حال مولانا علی میاں نے اس جگہ کو بہت پسند فرمایا۔ پھر رات میں حضرت مولانا کا بیان ہوا بیان کے بعد مولانا علی میاں نے حضرت سے فرمایا کہ میری عادت تو نہیں ہے لیکن اگر تم کہو تو میں تمہارے مدرسہ کے لئے کچھ لکھ دوں اور کوشش کردوں تاکہ کچھ پیسوں کا انتظام ہوجائے۔ حضرت باندوی علیہ الرحمہ نے عرض کیا کہ حضرت نہ میں نے اس لئے بلایا ہے اورنہ میں یہ چاہتا ہوں حضرت مولانا علی میاں نے پھر اصرار کیا لیکن آپ انکارہی فرماتے رہے۔(حضرت کا ارشاد ہے کہ آدمی کام کرے تو ہمت کرے اوراللہ پر بھروسہ رکھے اور اللہ ہی سے مدد چاہے) حضرت نے حاضرین سے ایک موقع پر فرمایا کہ حضرت مولانا علی میاں صاحب کا استغناء دیکھو چاہتے تو دولت و اسباب سے گھر بھر لیتے اتنی کثرت سے عرب و یورپ ممالک ِجاتے ہیں اور مقبولیت بھی خوب حاصل ہے لیکن جب بھی ان کے سامنے دولت پیش کی گئی اسکو ٹھکرادیا ، کتنا عرصہ گذر گیا گھر میں ایک ٹیپ ریکارڈ تک نہیں لائے، کھانا بھی وہی سادا موٹا جھوٹا، لباس بالکل سادا صرف دو تین جوڑے ۔ یہی باتیں تو ہیں جو انسان کو نامعلوم کہاں سے کہاں پہونچادیتی ہیں ۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ حضرت باندوی کہیں سے سفر کرکے عشاء بعد مولانا علی میاں ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ملاقات کا معمول بھی تھا کہ حضرت مولانا علی میاں صاحب علیہ الرحمہ اگر رائے بریلی یا لکھنؤ میں ہوں تو آتے جاتے ضرور حاضر ہوں اور