واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
درجہ کا ہی لیتے باقی زائد رقم کوئی دینا چاہتا تو ہرگز قبول نہ کرتے حضرت مولانا زکریا صاحب سنبھلی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت ایک صاحب کے یہاں میری معرفت سے تشریف لے گئے۔ حضرت کی خدمت میں فرسٹ کلاس کے کرایہ کے حساب سے رقم پیش کی گئی حضرت نے فرمایا یہ رقم تو بہت زیادہ ہے انہوں نے کہا میں اپنی ذاتی رقم میں سے پیش کررہا ہوں مدرسہ کے پیسے نہیں ہیں میری درخواست ہے کہ آپ فرسٹ کلاس سے تشریف لے جائیں ۔ یہ سنکر فرمانے لگے مسلمانوں کے پیسے اس کام کے لئے ہیں ؟ میں ساری رات اسٹیشن پر پڑا رہوں گا لیکن فرسٹ کلاس سے نہ جاؤں گا، مولانا زکریا صاحب ہی فرماتے ہیں کہ مولانا کے اسفار میں سے بعض اسفار ایسے ہوتے تھے جو ہم لوگوں کی نظر میں بالکل غیر ضروری ہوتے تھے لیکن حضرت کی دور رس نگاہ میں اسکے بہت سے دینی فائدے ہوتے تھے ایک بار دوپہر کو اسباق سے فارغ ہوکر سائیکل کے ڈنڈے پر سوار ہوکر ایک جگہ جارہے تھے میں نے مقصد سفر معلوم کیا۔ کافی کریدنے کے بعد بتلایا فلاں گاؤں میں ایک بچے کی ختنہ ہے مجھے واقعی حضرت کا یہ سفر بہت ناگوار ہوا۔ میں نے عرض بھی کردیا کہ یہ بھی کوئی وجہ سفر ہے حضرت مولاناؒ نے فرمایا مولانا! ان کی ہگنی مُتنی میں شریک ہوکر میں نے ان کودین کی بات پہونچائی ہے۔ یہ مولانا ہی کے الفاظ تھے۔ کافی دنوں کے بعد سمجھ میں آیا کہ اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرنے سے دین کے کام کے لئے کیسے راستے ہموار کئے ہیں ؟ حضرت مولانا سید احمد ہاشمی ؒ ریلوے کے بڑے افسر تھے انہوں نے حضرت والا کے لمبے لمبے اسفار کی مشقتوں کو دیکھ کر ریلوے کا پاس بنوادیا تھا۔ جس سے اے سی اور فرسٹ کلاس میں بلا ٹکٹ سفر کرسکتے تھے۔ مگر حضرت والا اس سے سفرکو تقویٰ کے خلاف سمجھتے تھے اور اس سے احتیاط کرتے تھے اسکو جیب میں رکھتے ہوئے ٹکٹ لیکر سفر فرماتے تھے۔