واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
قریب قریب تمام ہی اسفار میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر کسی ایک جگہ کا پروگرام ہے تو راستہ میں اثناء سفر کئی کئی ضمنی پروگرام ہوجایا کرتے تھے محض دوسروں کے آرام اوران کے دینی فوائد کے پیش نظر آپ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتے تھے بعض تو بہت ہی خود غرض ہوتے تھے انکا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ حضرت تشریف لے آئیں خواہ حضرت پر کچھ بھی گذر جائے کسی قسم کی راحت رسانی کا اہتمام نہیں بار ہا ایسے سفر کا اتفاق حضرت کو ہوتا رہتا تھا لیکن ساری مصیبتوں اور صعوبتوں کے باوجود کبھی حضرت ؒ کی زبان پر شکایت کا ایک لفظ بھی نہ آتا تھا بہت سے اللہ کے بندے تو واجبی کرایہ تک نہ دیتے تھے کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ دور دراز دیہات میں لے گئے اورواپسی کا کوئی نظم نہیں کیا، حضرت کو خود نظم کرکے واپس آنا پڑا جب تک جان میں جان رہی کسی کی دل شکنی نہیں کی۔ حضرت والا کے ساتھ رفیق سفر بننا آسان نہ تھا اکثر وہ بے آرامی کی وجہ سے بیمار ہوجاتا بعض دفعہ کھانے کو تو خوب میسر ہوجاتا لیکن سونے کو بالکل نہیں ملتا مسلسل سفر ہی سفر اول سفر آخر سفر قیام کا نام نہیں اس لئے حضرت اپنے ساتھ مستقل کوئی رفیق سفر نہ رکھتے تھے البتہ ہر جگہ ہر ایک حضرت کے ساتھ وقت لگانے کو اپنے لئے سعادت سمجھتا تھا اس لئے جہاں کہیں حضرت تشریف لے جاتے تو راستہ میں کوئی نہ کوئی ساتھ مل جاتا اس لئے روانگی سے واپسی تک مستقل رفیق سفر یا خادم بہت ہی کم ہوا کرتا تھا کہیں کوئی ساتھ ہولیا کہیں کوئی۔ حضرت والا اسفار میں کرایہ کے علاوہ نذرانہ ہرگز نہ لیتے تھے جو باتوفیق بندے کرایہ پیش کرتے تھے تو اولاً حضرت اسکو بھی انکار فرماتے اور اگر وہ اصرار کرتے تو صرف بقدر ضرورت ہی کرایہ لیتے، کار سے سفر ہوتا تو اس میں صرف تیل ڈالنے کی اجازت ہوتی تھی مگر افسوس یہ ہے کہ بعض بعض لمبے سفر میں بھی لوگ تیل بھی نہیں ڈالتے تھے۔ حضرت والا کی زندگی نہایت مسکنت اورغربت کی تھی ایسی حالت میں اپنی جیب سے تیل ڈالنا ہوتا اور اپنے پیسے سے کرایہ اور ٹکٹ فراہم کرنا ہوتا تھا جبکہ حضرت والا کرایہ بھی صرف معمولی