واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کرنے کا ہمیشہ اہتمام کیا ہے، ’’صفتہ الصفوۃ‘‘ اور ابن ابی الدنیاکے رسائل میں کثرت سے واقعات جمع کئے گئے ہیں ۔ لیکن یہاں پر اس حقیقت سے ہرگز غافل نہ ہونا چاہئے کہ بزرگوں کے واقعات ہوں یا ملفوظات ان کی تشریعی حیثیت یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ ان کو قرآن وسنت کا درجہ دیا جائے،بڑے سے بڑے بزرگ غوث ،قطب،ابدال کے معمولات کا ہرگز وہ مقام نہیں ہو سکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات وسنن عادیہ کا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات وعادات تو اسوئہ حسنہ ہیں جنکی ابتاع کا حکم دیا گیا ہے،’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌحَسَنَۃٌ ،،بزرگوں کے معمولات وعادات کا یہ درجہ نہیں ہے،محض تحریض و ترغیب کے لئے اہل اللہ کے حالات اور واقعات جمع کئے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی واقعہ یا معمول اور ملفوظ کتاب و سنت کے خلاف ہو ،ہرگز ہرگز وہ قابل قبول نہیں ہوگا ،یہی کتاب وسنت کا مقتضیٰ اور ہمارے اسلاف و اکا بر کی ہدایت اور تعلیم ہے۔ حضرت مولاناقاری سید صدیق احمد صاحب باندوی ؒ کبار اولیاء اللہ میں سے ہیں ،اللہ تعالی نے آپ کو ایسی محبوبیت و مقبولیت عطا فرمائی تھی جسکی بشارت حدیث پاک میں مقبول بندوں کے متعلق دی گئی ہے،’ویو ضع لہ القبول فی الارض ‘‘امت کے مختلف طبقات بلکہ مختلف مذاہب میں سے بہت کم ہی ایسے سلیم الطبع ہوں گے جن کے دل میں مولانا صدیق احمد صاحب کی عقیدت و محبت نہ رہی ہو،جسکا اندازہ ان حضرات کو اچھی طرح ہوگا جو حضرت کے پاس کثرت سے آمد ورفت رکھتے تھے اور حاضرین وزائرین کا ہجوم بھی دیکھتے تھے۔ حضرت مولاناقاری سید صدیق صاحب باندویؒ کی نصیحت آمیز باتوں (ملفوظات ) اسی طرح آپ کے واقعات میں بڑی تاثیر ہے،لوگ ان کی باتوں اور ان