واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
مگر نیت صحیح ہو کہ اس سے مسلمانوں کا کام کریں گے اور خدمت کریں گے۔ِ‘‘ اور مدراس کے علاقہ میں بمقام آمبور ایک کالج کے طلباء سے خطاب میں حضرت نے فرمایا: یہ وعدہ کریں اور اس کی کوشش کریں ابھی سے کریں کہ ہم دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنی زندگی وقف کردیں گے، دوسری مخلوق کو ہم نفع پہونچانے والے بنیں گے، یہ نیت ہونی چاہئے کہ ہم ڈاکٹر بنیں گے ، تو اچھے ڈاکٹر بنیں گے، سب کو نفع پہونچائیں گے، اور آج ہم ڈاکٹر اس لئے بن رہے ہیں کہ ڈاکٹر بننے کے بعد ہم کوٹھیاں بنائیں گے ، مالدار بنیں گے ، کار خریدیں گے ، خوش حال ہوں گے، نیت یہ نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ نیت یہ ہونی چاہئے کہ ڈاکٹر بنیں گے ، دوسروں کو نفع پہونچانے کے لئے، مریضوں کا علاج کرنے کے لئے، اسی طرح انجینئرنگ ہے یا جتنے بھی شعبے ہیں سب کے اندر نیت کی تصحیح ضروری ہے کہ ہم انجینئر بنیں گے، دوسروں کو نفع پہونچانے کے لئے، ،۔ نیز فرمایا ’’ یہ جو اسکول اورکالج کی تعلیم ہے اس کی قدر کرنی چاہئے اوریہاں جو تعلیم دی جاتی ہے اور جو ہنر سکھایا جاتا ہے اس کو ہم دل سے لیں اور دل سے سیکھیں اورتصحیح نیت کے ساتھ سیکھیں اوریہی جذبہ ہمارا ہو کہ ہم دوسروں کو نفع پہنچائیں گے۔‘‘ حضرت نے اسی مذکورہ خطاب میں یہ بھی فرمایا تھا: تعلیم انسان کے اندر بگاڑ کو ختم کرکے صلاح کو پیدا کرتی ہے ، ذاتی چیزوں (صفات) کے اندر مہارت پیدا کرتی ہے، دل کے اندر کا بگاڑ تعلیم سے دور ہوتا ہے ،اگر تعلیم کے ذریعہ سے ہم اپنے دل کے بگاڑ کو دور نہ کرسکے توپھر ہمیں حاکم(یا کسی کام کے ذمہ دار) بننے کا حق بھی نہیں ۔ تعلیم تو ایک ہنر ہے، ایک کمال ہے، انسان کو کامل بنادیتی ہے کوئی آدمی اپنے اندر بگاڑ رکھنا چاہے تو وہ تعلیم سے دور رہے گا۔‘‘ ’’ہاں یہاں ایک بات اور سن لیں ، صرف تعلیم سے دل کا بگاڑ دور نہیں ہوگا،