واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
پلہ سمجھتے ہوں یا عصری تعلیم کودینی تعلیم پر ترجیح دیتے ہوں کہ دینی تعلیم تو بس بقدر ضرورت اورعصری تعلیم زائد سے زائد ہو۔ جیسا کہ بہت سے مرعوب و متاثر قسم کے لوگ کیا کرتے ہیں بلکہ دین و دنیا کہئے یا دنیا و آخرت دونوں کے مراتب کا جو فرق ہے اس کے مطابق دونوں قسم کی تعلیم میں حضرت فرق بھی کرتے تھے، اولیت اور اساسی اہمیت بہر حال دینی تعلیم کوتھی، جس کے ساتھ ایمان و عقیدہ کی حفاظت اور آخرت کی کامیابی جڑی ہوئی ہے۔ اسی لئے حضرت دینی مکاتب و مدارس اور اداروں کے لئے تو جدوجہد کرتے ہی تھے اوراس کے لئے فکر وتحریض وترغیب کی باتیں فرماتے،عصری اداروں کے لئے جدوجہد کو بھی اہمیت دیتے، ایسے کاموں کی ہمت افزائی فرماتے، دعوت پر ان کی تقریبات میں شرکت کرتے اوربیانات میں حسب موقع ان کی ضرورت کا اظہار فرماتے اور لوگوں کو اس پر آمادہ فرماتے کہ یہ بھی ہمارے اور مسلمانوں کے کرنے کا کام ہے۔ چنانچہ جانے کتنے اسپتال اورنرسنگ ہوم وغیرہ کی حضرت نے بنیادڈالی اوران کی تقریبا ت میں شرکت فرمائی اوراسکولوں و کالجوں کے پروگراموں میں شرکت کی اور ان کاموں کی اہمیت دلائی ، آپ نے میڈیکل کالجوں انجینئر نگ کالج وغیرہ کھولنے کی ترغیب دی اوراس سلسلہ کی تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت دلائی وبتائی اورتعلیم حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی۔ ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت کی خدمت میں آئے اورایک صاحب نے اپنے بچے کی اعلی تعلیم کا تذکرہ کیا، اس مقصد کے تحت کہ بچہ مستقبل میں ایس پی یا کلکٹر وغیرہ بنے، تو حضرت نے فرمایا ’’ٹھیک ہے مگر نیت یہ ہو کہ ایسا عہدہ حاصل کرکے مسلمانوں کا کام کریں گے‘‘۔ اور پھر سنایا:’’ ایک مرتبہ لکھنؤ میں کچھ بزرگ جمع تھے، حضرت رائے پوری بھی تھے، سلسلۂ گفتگو میں انہوں نے فرمایا: انگریزی پرھنے کو منع نہیں کیا جاتا، پڑھے پڑھائے