واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
دارالاسباب ہے یہاں تو اسباب ہی اختیار کرنے پڑیں گے ورنہ پیغمبر کی دعاء سے سب کام چل جاتا۔ لیکن حضورﷺ اور صحابہ نے اسباب اختیار کئے۔ کام کی ترتیب یہ بتلاتی ہے کہ پہلے کچھ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے جب کچھ افراد تیار ہوجاتے تب کام شروع ہوتا، مدینہ پاک میں حضورﷺ نے ہجرت بعد میں فرمائی پہلے کچھ لوگ اسلام لے آئے تھے، اپنے کچھ افراد تیار ہوچکے تھے اسکے بعد حضورﷺ نے ہجرت فرمائی اور مدینہ پاک مرکز بنا پھر کام کو ترقی ہوئی سنت طریقہ یہی ہے اور سنت طریقہ پر جو کام ہوتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے کام آگے بڑھتا ہے یہی میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ کچھ اور لوگ تیار کیجئے کچھ لوگوں کو یہاں لائے اپنے آدمی بنائیے پھر مدرسہ کی کوشش کیجئے۔ چنانچہ ان کی سمجھ میں آگیا اور کچھ لوگوں کو ہم خیال بنانے میں لگ گئے۔ ایک اور واقعہ جبلپور علاقہ کے ایک عالم صاحب کا ہے تشریف لائے اور اپنے یہاں مدرسہ قائم کرنا چاہتے تھے اور مقامی لوگوں سے کچھ پریشان تھے، حضرت نے ان سے فرمایا کہ کام کرنے والے کو چاہئے کہ جس جگہ کام کررہا ہے وہاں کے لوگوں سے مل جل کر کام کرے سب سے مل کر رہے کٹ کر نہ رہے، اس میں بہت سے نقصانات ہیں ، میرا تو مشاہدہ ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے مقامی لوگوں سے کٹ کر کام کیا ہے کا م میں ترقی نہیں ہوئی یہ کام ہی ایسا ہے کہ سب کو لیکر چلنا پڑتا ہے ، بہت سی باتیں سننا پڑتی ہیں ، بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور صبر سے کام لینا پڑتاہے ۔ ایک مرتبہ ایک مدرسہ سے متعلق چند نوجوان حاضر ہوئے اور اہل محلہ کے عدم تعاون کا شکوہ کررہے تھے، حضرت نے افسوس ظاہر کیا اور پھر فرمایا کہ اب تو مدرسہ چلانے والوں کو دل سے یہ خیال نکال دینا چاہئے کہ گاؤں والے ہماری مدد کریں گے اب تو حالات ایسے ہیں کہ اگر ہم کو کام کرنے کا موقع مل جائے کہیں بیٹھنے اور ٹھہرنے کی جگہ مل جائے مسجد میں جگہ مل جائے یا مدرسہ کی زمین ہی مل جائے اس کو غنیمت سمجھنا چاہئے یہی بہت بڑی بات