واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
خراب ہے حضرت دیکھنے تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر دوبارہ پڑھانا شروع کردیا (بعض حضرات سے سنا کہ اہلیہ نے ملاقات پر کہا کہ کہا سنا معاف کرنا) حضرت والا بخاری کے درس میں مشغول تھے کہ پھر اطلاع آئی کہ حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی ہے حضرت نے درس کی بات پوری کرکے جانے کا ارادہ کیا تھا کہ اسی اثناء اطلاع آئی کہ انتقال ہوگیا ہے انا ﷲوانا الیہ راجعون۔ سبق بند کرکے گھر تشریف لے گئے تھوڑی دیر میں اسی صدمہ کے ساتھ پھر واپس آکر سبق پڑھانا شروع کردیا اورفرمایا کہ ہمیشہ وہ خیرکا ذریعہ بنتی تھیں ان کی وفات سے کوئی خیر کا سلسلہ (درس وغیرہ) موقوف کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا چنانچہ حسب معمول حضرت نے سارے اسباق پڑھائے یہ عجیب منجانب اللہ حسن اتفاق تھا کہ بخاری شریف میں ’کتاب الجنائز‘ کے ابواب چل رہے تھے جب طبیعت زیادہ خراب ہونے کی اطلاع آئی تو قریب المرگ کے مسائل تھے جب انتقال کی اطلاع آئی تو اس وقت ہدایہ میں غسل وکفن کے مسائل چل رہے تھے جس وقت جنازہ لایاگیا مشکوۃ میں نماز جنازہ کے مسائل سے پڑھاکر فارغ ہورہے تھے اور مزید اتفاق جلالین شریف میں میراث کی آیات کی تفسیر زیر درس تھی۔ یہ منجانب اللہ گویا تسلی اور حب لقاء اللہ کی علامت تھی ۔ اہلیہ مرحومہ کے جنازہ میں مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے چارپائی میں مزید لمبا بانس لگانے کی لوگوں نے تجویز رکھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگکندھا دینے کی سعادت حاصل کرلیں حضرت نے انکار فرمایا اورفرمایا کہ ’’سنت سے تو یہ ثابت نہیں اور نہ ہی شریعت میں اسکی کوئی اصل ہے معلوم نہیں کب سے یہ طریقہ چل پڑا کسی نے بعض اکابر کے لئے اسکے اہتمام کا تذکرہ کیا تو فرمایا ہاں اس سے پہلے سے یہ طریقہ چلا آیا ہے لیکن اسکی کوئی اصل تو ہے نہیں کسی بزرگ کا عمل حجت نہیں ، جن لوگوں نے کیا وہ ان کا عمل ہے ، شریعت میں اسکی کوئی اصل ہویا حضور ﷺ سے یا صحابہ سے اسکا ثبوت ہوتو ٹھیک ہے۔