قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
جانے کا اندیشہ ہوتو اس کی اصلاح کی نیت سے اورموقع بہ موقع اس کو حق کی ترغیب دلانے کی نیت سے اس سے تعلقات کو باقی رکھنابہتراورمناسب معلوم ہوتا ہے ، کیوں کہ اصل مقصود اصلاح ہے نہ کہ کسی کو فاسق یاگمراہ قراردینا، مگریہ اس وقت ہے جب کہ اس کے ساتھ تعلقات باقی رکھنے میں خود اپنے نظریات کے متأثرہونے کا اندیشہ نہ ہو ، ورنہ اس سے ترک تعلق ہی لازم ہوگا۔ حضرت مولاناخالدسیف اللہ صاحب رحمانی دامت برکاتہم شرابی کوسلام کر نے کے سلسلے میں فرماتے ہیں ’’خواہ کوئی بھی مسلمان سلام کرے اگر جواب دینے میں کوئی عذرنہ ہوتو جواب دیناواجب ہے،جہاں تک سلام کرنے کی بات ہے توجوشخص علانیہ شراب پیتاہو اوراپنی اس برائی کو چھپاتانہ ہوتو اسے واقعی سلام نہ کرناچاہئے،فقہاء نے لکھاہے کہ جوشخص علانیہ فسق کے کام کرتاہواسے سلام کرنا مکروہ ہے(ویکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا)‘‘۔البتہ اگریہ اندیشہ ہوکہ ترک سلام کی وجہ سے عداوت بڑھ جائے گی اوراصلاح کا راستہ مسدودہوجائے گا اورسلام کا تعلق رکھنے کی وجہ سے موانست بڑھے گی یا شراب چھوڑنے کی دعوت دینے کاموقع باقی رہے گاتوبہترہے کہ اسے سلام کرے، کیوں کہ اصل مقصداصلاح ہے نہ کہ اہانت اورنہی عن المنکر ہے نہ کہ ضد و عناد۔ (کتاب الفتاویٰ:۶؍۱۲۲) کسی کی گمراہی یاکفرپرتنقیدکرنے کے یہ چندحدودوآداب ہیں ،جن کالحاظ کرنا نہایت ضروری ہے،اللہم وفقنالماتحب وترضٰی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭سوال(۴) یہ ہے کہ ہم جن لوگوں کوان کے بعض عقائد کی بناپرگمراہ یاخارج از اسلام قراردیتے ہیں ،کیاانہیں بے دریغ قتل کرنے اوران کے مذہبی اداروں اورمذہبی