قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
{…دبستانِ بلاغت…} تصنیف:مولاناافتخاراحمد صاحب قاسمیؔسمستی پوری استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا فن،کتاب اورصاحب ِکتاب کا تعارف الحمدللہ الذی انزل القرآن تبیانا للناس والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمدنالذی ہوافصح العرب۔امابعد! اللہ پاک نے اس جہانِ رنگ وبومیں انسان کودوبنیادی صلاحیتیں ،انشاء پرداز ی اورقوت گویائی سے سرفرازفرماکرساری مخلوق پرشرفِ امتیازبخشا،کیوں کہ اس روئے ز مین پر نسل ِانسانی کے آباد کرنے کا مقصد ،اسے خیر کی راہ اختیار کرنے کا مکلف بناناہے جس کے لیے افہام وتفہیم کی صورت ناگزیرہے اور یہ صورت مؤثراس وقت ہوتی ہے جب زبان وقلم کی صفائی،الفاظ کی ششتگی وشگفتگی اور ادائیگی ٔمرادکے لیے ان کے استعمال کی برجستگی؛نیزبرمحل بولنے اورلکھنے کاہنرخوب آتاہو،یعنی کلام فصاحت وبلاغت کے زیور سے آراستہ ہو،اورجس میں یہ جوہر نہیں ،وہ دشواری ٔ فہم،بل کہ گراں گوشی اورعدمِ التفا ت کاعیب پیداکرتاہے،جوحصول ِمقصد سے مانع ہوتاہے،یہی وجہ ہے کہ جب اللہ پاک نے موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام کوفرائض ِنبوت کامکلف بنایا،تووہ بارگاہِ ایزد ی میں نیازمندانہ اپنے ضعف ِ گویائی کااعتراف کرتے ہوئے عرض پرداز ہوئے ’’وأخی ہٰرون ہوافصح منی لسانافارسلہ معی‘‘(القصص۳۴)۔ تاریخ میں ایک دوروہ بھی گذراہے جب عرب اپنی زبان دانی کے زعم میں سار ی دنیاکوگونگی سمجھتے تھے،اس وقت اسی ماحول میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوتی ہے،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوان عرب کے زعم کے مطابق بہ طورچیلنج دلائل ِ اعجاز کی