قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
{…گلبانگ عنادل…} جمع وترتیب:مولاناسیدخلافت علی صاحب ملّی ناظم مدرسہ کافیۃالعلوم،اڑاودتعلقہ چوپڑاقلم برداشتہ اللہ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ،خالق کائنات ،رب ارض وسماء نے جہاں اشجارواحجار ، حیوانا ت وجمادات ،بحروبراورعرش وکرسی جیسی بے شمارمخلوق کوپیدا فرمایااوراپنی شان خالقیت وقدرت کوہرچھوٹی بڑی،عرشی وفرشی،ارضی وسماوی،مخلوق پرظاہرفرمایا،جس کوکسی نے یوں تعبیرکیا ہے، کہ وَفِیْ کُلِّ شَئٍ لَہٗ اٰیَۃٌ……تَدُلُّ عَلٰی اَنَّہٗ وَاحِدٌ توخود باری تعالیٰ نے،مخاطبینِ قرآن کومخاطب کرتے ہوئے دعوت عبرت و استدلا ل دیاہے چناں چہ ارشادفرمایا’’رَبَّنَامَاخَلَقْتَ ہٰذَابَاطِلاً‘‘(اٰل عمران:۱۹۱)جس کا ترجمہ شاعری زبان میں یو ں کیاجا سکتاہے ؎ نہیں ہے چیزنکمّی کوئی زمانے میں نہیں برا کوئی قدرت کے کارخانے میں بہرحال اس طویل وعریض مخلوقات کی فہرست میں باری تعالیٰ کی ایک ایسی بھی مخلوق ہے جس کے بارے میں خودباری تعالیٰ نے امتناناً یوں فرمایا ’’لَقَدْخَلَقْنَا الِانْسَانَ فِیْ اَحْسَنِتَقْوِیْمْ‘‘(التین۴)اورکہیں ارشادفرمایا’’وَلَقَدْکَرَّمْنَابَنِیٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّوَالْبَحْرِ‘‘ (الاسراء۷۰)غرض کہ باری تعالیٰ نے مخلوقات میں سب سے ممتاز اوصاف کاحامل حضرت انسان کوبنایا اور ایسابنایا کہ اس کوحقارت کی نگاہ سے دیکھنے کوبھی ممنوع فرمایا، جس کوکسی نے یوں تعبیرکیاہے کہ ؎ نہ دیکھ اے چشمِ عدو مجھ کو حقارت سے نہ دیکھ--جس پہ خالق کو بھی ہے ناز وہ انسان ہوں میں