قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
سے کوئی شکوہ ہو،یاانتظامیہ کوکسی سے کوئی رنجش،پولیس محکمہ کی انکوائری ہو،یامقامی آزمائشی گتھی کوسلجھانا؛ہرایسے نازک موڑپرانتظامیہ کی شانہ بشانہ ہرقسم کی قربانی و ایثار کرنے کے لیے کوئی شخصیت اگرتھی،توحضرت مرحوم کی تھی،آپ نے اپنے آپ کوفلاح ِ دارین پرایسانچھاورکیاکہ فلاح ِ دارین کاتصورآپ کے بغیرنہیں کیاجاسکتاتھا،آپ پراس وقت یہ شعربجاصادق آرہاہے ؎ نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے یہی دل کی حسرت یہی آرزوہےحضرت الاستاذ کی درسی مقبولیت وخصوصیات: حضرت مرحوم کوجنہوں نے آخری دورمیں دیکھاہے،انہوں نے ایک منتظم ِمدارس ، صاحب ِرائے اورصائب الرائے کی حیثیت سے دیکھاہے،حالاں کہ آپ مختلف علوم وفنون میں اردووفارسی سے لے کر نحووصرف،ادب وبلاغت ،منطق وفلسفہ ، فقہ واصول فقہ،تفسیروحدیث ؛غرض ہرعلم وفن میں ید ِطولیٰ رکھتے تھے،چناں چہ فلاح ِدارین کے زمانہ ٔ قدیم میں بوستاں ،قواعد ِفارسی،علم الصیغہ،الدروس النحویہ، ہدایۃ الحکمۃ ، ہدایہ، شرح وقایہ،جلالین جیسی اہم کتابیں زیر در س رہیں ؛اوراخیرمیں مسلم اورصحیح بخاری بھی آپ ؒ کے زیردرس رہیں ،جس سے آپ کو جامع معقول ومنقول کہنابجاہوگا۔ حضرت الاستاذ کے درس کی خصوصیات میں سب سے پہلی خصوصیت یہ رہی کہ : (۱) آپ ماہرنفسیات ہونے کی وجہ سے طلباء کی نفسیات کوپورے طورپرملحوظ رکھتے ، طلباء کب طویل بحث کو برداشت کرسکتے ہیں اورکب اختصارکے خواہاں ہوتے ہیں ؟ اس بات کا آپ خوب خوب خیال فرماتے۔ (۲) کتاب کے آغازمیں مصنف کے احوال اس طرح پیش فرماتے کہ گویاابھی مصنف سے مشافہۃً متعارف کرارہے ہوں ۔