قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
شادی سمجھتے، حضرت نائب رئیس الجامعہ اور حضرت خان پوریؒ کی اس یکجہتی نے جامعہ کو اس بلند ترین مقام تک پہونچا یا کہ جس کو سمجھنے کے لیے بڑی عقل در کارہے۔کامیابی کا راز: ہر تحریر اپنی کامیابی وکامرانی کے لیے قربانی وجاں نثاری چاہتی ہے،جامعہ میں رہنے والے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ طلباء پرکنٹروـل ایک اہم ترین اورخاص صلا حیت کی حامل جامعہ کی تین شخصیات میں جن کی ساری خدمات جامعہ کے لیے وقف رہی ہیں یہ رہیں وہ سہ شخصیات ناظم جامعہ مرحوم مولانا یعقوب صاحب خانپوری،نائب رئیس الجامعہ حضرت حافظ اسحق صاحب وستانوی اورناظم مطبخ حافظ عبدالصمدصاحب پانولی، یہ ابھی ربیع الاول کی ہی توبات ہے کہ جامعہ میں امتحان ششماہی کے بعد کی تعطیلات ہو رہی تھیں اور تینوں کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا تھا کہ ایک سفر سے رئیس الجامعہ کا فون آیا کہ آپ تینوں کو جامعہ کے احاطہ سے نہیں جانا ہے اور جامعہ ہی میں رہنا ہے تینوں نے سنتے ہی سر تسلیم خم کر لیا۔عظیم قربانی: جامعہ کی سرگرمیوں نے ان حضرات کوبہت مصروف کر دیاتھا،ہرشخص کے سا تھ اپنی نجی زندگی بھی ہوتی ہے جس کو قربان کرنا بے حد مشکل اورپرمشقت ہے لیکن اس گنہگار راقم الحروف نے حضرت مرحوم کو پچھلے۱۷؍سال سے مسلسل،بلاناغہ دونوں وقت کا کھانا احاطہ ٔجامعہ میں حافظ اسحاق اورحافظ عبدالصمد صاحبان کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا ہے،یہ بات لکھنے او ربولنے میں تو آسان ہے؛ مگر ایک وقت کا کھانا گھر سے باہر کھانا خانہ جنگی کا سبب بن جاتا ہے، کوئی معمو لی قربانی نہیں یہ تو میرا مشاہدہ ہے نامعلوم یہ روایت کب سے برقرار تھی۔