قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
اندا زمیں بیا ن کی کہ اخلاق در حقیقت دل کی کیفیا ت کا نا م ہے ، دل میں جو جذبات ابھر تے اور جو خو ا ہشا ت پیدا ہو تی ہیں اس کا نا م اخلاق ہے ، حسن اخلاق کے معنی،انسا ن کے جذبات میں اچھی اور خو شگو ا ر با تیں پید ا ہو ں اور بر ے اخلاق کے معنی اس کے دل میں خرا ب جذ با ت اور غلط خو ا ہشا ت پیدا ہو تی ہو ں ۔ حسن اخلا ق میں کما ل کیسے پیدا ہو تا ہے ؟ جس طر ح ظا ہری صورت کا حسن صر ف آ نکھو ں کے حسین ہو نے سے پور ا نہیں ہو تا بل کہ نا ک ، منہ، رخسار ، رفتا ر ، گفتا ر ، نشست و بر خا ست سب حسین ہو ں توظا ہر ی حسن میں کما ل سمجھا جا تا ہے ، کسی نے اس کو یو ں تعبیر کیا کہ ؎ حسن پر مر تا نہیں ، مر تا ہو ں میں توچا ر پر نازپر ، اندازپر ، رفتارپر ، گفتارپر اسی طرح با طن میں بھی چا رقوتیں ایسی ہیں جن میں ہر ایک کا خو بصو رت اور حسین ہو نا ضروری ہے تا کہ باطنی حسن مکمل ہو،ان چا روں کے معتد ل ہو نے اور ایک دو سر ے کے منا سب ہو نے سے حسن خلق حاصل ہو تا ہے ، وہ قوتیں یہ ہیں ۔ (۱) قو ت علم (۲) قو ت غضب (۳) قو ت شہو ت (۴ ) قو ت عد ل (۱)قو ت علم کا حسن یہ ہے کہ علم اس مقد ا ر اور کیفیت کا ہو جس کے ذریعہ اقو ا ل مختلفہ ،صد ق و کذ ب کا فرق کر سکے ، مسائل اعتقا د، حق و با طل کی تمیز ہو سکے ، اور اعما ل و افعا ل میں صحیح غلط کے ما بین امتیا ز کر سکے۔ جب قو ت علمیہ میں کما ل ہو تو اس کا ثمر ہ حکمت بھی حا صل ہو تا ہے اور حکمت سا رے اخلا ق حسنہ کا سر چشمہ ہے۔ (۲) قو ت غضب کا حسن یہ ہے کہ اس میں کمی بیشی علم و حکمت کے مقا صد کے مطا بق ہو۔