قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
(۳) قو ت شہوت کا حسن یہ ہے کہ شہو ت انسا نی شریعت و عقل کے فیصلہ کے تقا ضہ کے مطا بق ہو۔
(۴) قو ت عدـــل کا مطلب یہ ہے کہ شہو ت اور غضب کو شریعت کی لگا م دے اورعقل تشکیل دے۔ حاصل یہ ہے کہ ان قو ا ت اربعہ کو کمال تک پہنچا نے سے حسن ِاخلا ق کاکمال پیدا ہو تا ہے۔
کما لِ حسن ِاخلا ق کے چاراصول ہیں :
حکمت،شجاعت،عفت وپاکدا منی، عدل و انصا ف ، پھر ا ن اصو ل کی تعر یفا ت مختلف ہیں ،علامہ اقبا لؒ نے امت کے اخلا قی انحطا ط و اخلاقی ز و ال کو کسی مو قع سے بڑ ے اچھے اندا ز میں تعبیر کیا اور امت کو تلقین کی کہ ؎
سبق پڑ ھ پھر صدا قت کا عدا لت کا شجا عت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
بہر حا ل حسن اخلاق ایک ایسی تعلیم اسلا م ہے کہ نہ صر ف تعلیم بل کہ آ قا مد نی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اخلاق عظیمہ کا حا مل بنا کر مبعو ث فر ما یا اور ار شا د فر ما یا کہ {وانک لعلی خلق عظیم} اور خو د رسو ل پا ک صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فر ما یا کہ قیا مت کے دن میز ا ن میں جو سب سے بھا ری خیر رکھی جائے گی وہ اللہ کا تقویٰ اور حسن ِ خلق ہوگا۔
حسن اخلاق جیسا کہ عر ض کیا گیا کسی مخصوص عدد میں محصو ر نہیں کیاجاسکتا،دل میں جو بھی جذبا ت ِخیر،جذبہ رضائے الٰہی اور شفقت علی الخلق کے جذ بہ سے پیدا ہور ہے ہو ں وہ سب اخلاق ِحسنہ ہیں ،چا ہے وہ صد ق گو ئی وسخا و ت،پاک دا منی،شرم و حیاء، دیا نت دا ری،رحم و تر حم ، عد ل و انصاف ،عہدوپیمان کی پابند ی،احسا ن ،عفو و در گذر ، حلم و