قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
اڑادوکے ناظم اسم بامسمّیٰ مولاناسیدخلافت علی ملّی مدظلہ‘ کے محفوظ خزانۂ اشعار کاایک نمو نہ ہے، جس میں کم وبیش۱۶۰۰؍اشعارحروف تہجی کی ترتیب سے اور۷۰؍کے قریب بذلہ سنجیاں ہیں ۔ گویایہ کتاب ادبی دنیاکی ایک شاہکار کتاب ہے، جس کو بڑی عرق ریزی اور جہد مسلسل سے جمع وترتیب سے مزین کیاگیاہے،بہت ہی کارآمداورمفیدہے اورکیوں نہ ہو جب کہ موصوف مرتب کامادرِوطن،ادب شناسوں ،ادب نوازوں اوراہل ِادب کے قدر دانوں کی سرزمین یعنی قصبہ مارول ہے ،جس کی مٹی اور خمیر میں ادب کی آمیزش ہے، تو دوسری طرف جنا ب موصوف کامادرِ علمی شہر مالیگاؤں ہے، جس کو ادیبوں کا مسکن اور مولد ہونے کا شرف حاصل ہے، بالخصوص مصنف کا علمی گہوارہ معہد ملت کا ادبی خوش نما، خوش فضا ماحول نیز ان کے خصوصی او رہر دل عزیز استاذ،ادیب و اریب،محقق زماں ،حضرت علامہ مولانامحمد حنیف صاحب ملیؔ ؒجن کے فیض ِنظرنے کتنوں کو ذرے سے آفتاب بنا یا اور علم وادب سے خالی اور عاری کو زیورِ علم و اد ب سے آراستہ کیا،اس اعتبار سے مولانا سید خلا فت علی صاحب کو ادبی دنیاکا مجمع البحرین کہا جا سکتا ہے اور ادیب الطرفین بھی۔ مولانا موصوف کی کتابِ مذکورجہاں جامع کی قوتِ حافظہ کو دادتحسین دے رہی ہے وہیں ہرزمانہ بالخصوص ا س دور کے طلبہ کے لیے مشعل ِراہ بھی ہے اور بیت بازی اور اشعار فہمی کے لیے راہ نمااور دلیل بھی،یوں تو دنیائے ادب میں بیت بازی کے عنوان پرعرفان خلیلیؔ کی ’’بیت بازی‘‘حامداقبال صدیقی کی’’معیاربیت بازی‘‘سلیم مالیگانوی کی کتاب’’شعروں کاکھیل‘ ‘ اور’’بیت بازی‘‘اور چند سال قبل ولیؔ بستوی کی ’’اشاعتی بیت بازی‘‘ اس میدان میں قا بل قدر کتابیں معرضِ وجود میں آچکی ہیں ،لیکن’’ عکس ثانی از اول بہتر است‘‘کے اعتبا ر سے یہ کتا ب مدارسِ دینیہ جواس دور میں روایاتِ اردو کے