قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
پیش فرماتے،بل کہ ایک مرتبہ حضورپُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت ؓکو ’’أللّٰہم أیِّدْہ بِروح القُدُس‘ ‘ کی دعاء سے بھی نوازااورکبھی تورسالت مآب ؐ کی لسان پُرصداقت پرارتجالاً اشعارجاری بھی ہو جاتے تھے،جیسے: اناالنبی لاکذب……اناابن عبدالمطلب بہرحال حضرات شعراء جس طرح اشعارکے ذریعہ اپنے مافی الضمیرکواداکرتے رہتے ہیں ،امت کے ایک طبقہ نے ادبی دنیامیں اشعارکو یادکرنے اورحفظ کرنے کے سلسلہ کوبھی جاری رکھاہے،کوئی دیوان کاحافظ ہوتاہے ،کوئی مخصوص موضوع کے اشعار کا ۔ مدارس کی دنیامیں محفوظات کا ایک مستقل شعبہ ہوتاہے،مثلاً: محفوظاتِ مفردا ت، محفوظاتِ مرکبات،محفوظاتِ ادبیات،محفوظاتِ حسن ِتعبیرات،محفوظاتِ کتابیات، محفوظاتِ روایات اورمحفوظات ِاشعاروغیرہ۔ آج کے ترقی یافتہ دورمیں گرچہ حساب کی آسانی کے لیے کیلکولیٹر،کسی چیز کو محفوظ رکھنے کے لیے میموری کارڈاورکسی چیزکی یادداشت کوباقی رکھنے کے لیے دیجیٹل ڈائری وغیرہ اشیاء وجودمیں آگئی ہیں ،لیکن قادرحقیقی اورخلاق عالم نے ہرچیزکومحفوظ اور دائم وقائم ر کھنے کے لیے جوقوت حافظہ عطاکیاہے اس کی افادیت وہمہ گیریت کاانکار کرنابداہت کاانکا ر کرنے کے مترادف ہے۔ باری تعالیٰ نے کلام منظوم کے محافظوں اورتخلیق کاروں کی بھی دوقسمیں بنائی ہیں : ایک ہوتاہے تخلیق کار،اشعارساز۔دوسراہوتاہے محافظ اشعار(اشعارکاحافظ)بل کہ محافظ خزینہ اشعار۔ زیرنظر کتاب دنیائے محافظ اشعار کی ایک جھلک ہے،اس کتاب کے جامع ساد ہ لو ح سادہ مزاج ،سراپاخلوص ،مرنجا مرنج طبیعت کے مالک، جامعہ کی شاخ کافیۃ العلوم