قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
جس انسان کوترچھی نگاہ سے دیکھنا بھی اس کے خالق ومالک کو گوارہ نہ ہوا،اس کو جن اوصاف حسنہ کاحامل اورجن افعال کامکلف بنایاہے،وہ بھی لاجواب ولاثانی ہے ، چناں چہ فرمایاگیا’’وَمَنَحَہٗ النُّطْقَ‘‘اللہ پاک نے اس کو قوت تکلم وگویائی بالفاظ دیگر ، احساسات و ادرا کات کوتعبیرکرنے کا ملکہ وسلیقہ عطافرمایاہے،پھریہ انسان اپنے مافی الضمیرکو دوصورتوں میں ادا کرتاہے : ایک بصورت کلام منثور دوسرے بصورت کلام منظوم پھرکلام منثور،عام بول چال سے لے کرحقائق ودقائق،عمیق سے عمیق مضا مین کی افہام وتفہیم کاایک اعلیٰ ترین ذریعہ اوراغلب طریقہ ہے،لیکن انسان چوں کہ نغمہ سنج اور نغمگی مزاج واقع ہو ا ہے،اس لیے کلام منظوم کے ذریعہ بھی بسااوقات مضامین کو قا فیہ بندی کی لڑی میں پروکرپیش کرتاہے،کہ سامعین اس کلام سے متأثربھی ہوتے ہیں اوراس کا یاد رکھنابھی آسا ن ہوجاتا ہے۔معاًانسان کواللہ تعالیٰ نے اشارات،استعارات،تمثیلات وغیرہ سے گفتگو کر نے کا ملکہ بھی عطافرمایاہے،اوران صناعات بدیعیہ اورتعبیرات بیانیہ معنویہ کا استعما ل، کلام منظوم میں بکثرت ہوتاہے،اس لیے کہ کلام منظوم،معانی کا بحرذخّار ہوتاہے۔اشعار اور کلام منظوم کی بہت سی اصناف ہیں مثلاً:حمد،نعت،مدح و منقبت، تہنیت،مرثیہ،طنزو مزا ح ، قصیدہ،بیت، ربا عی،مخمس،مسدس،قطعہ اوربیت بازی وغیرہ وغیرہ۔جواربابِ ذ وق اور اصحابِ اد ب سے مخفی نہیں ۔ اشعارکے ذریعہ تشجیع بھی ہوتی ہے اورتحریض بھی،ترغیب بھی ہوتی ہے اور تر ہیب بھی،اشعارحوصلہ مندبھی ہوتے ہیں اورحوصلہ شکن بھی،خوداعدائے اسلام جب حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف سازشی اشعارپیش کرتے توحضرت حسان بن ثابت،حضرت کعب بن زہیرؓ اور حضر ت عبداللہ بن رواحہثجیسے شعراء درباررسالت سے دفاعی اشعار