قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
(۴) اسی طرح ماعلم ضمناکے طورپرسندواسناد،سنداصطلاحی،اہمیت سندکوبھی اٹھایا گیاہے۔ (۵) لطائف سند جس کااہتمام امام نووی ؒ نے کیاہے اس کے بعد اس شرح میں جا بجا لطائف سندکالطف حاصل ہوتاہے۔ (۶) مخارج روایت سے اس کتاب کے علاوہ یہ روایت کہاں کہاں کس مقصدکے لیے لائی گئی ہے اس کو بھی نکھاراگیاہے۔ (۷) تعلیقات بخاری ومقصدتعلیقات سے بھی سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ (۸) اعراب و وجوہ اعراب کی بحث کرکے طلباء کو علوم سابقہ کا اجراء بھی کرایاگیا ہے ۔ (۹) تشبیہات وتمثیلات پرمشتمل روایات کوممثل اورممثل لہٗ ،مشبہ ومشبہ بہ کے ما بین تطبیق بھی دی گئی ہے۔ (۱۰) اگرترجمۃالباب پرکوئی اشکال واعتراض ہورہاہے تواس کی توجیہات و تاو یلا ت میں مختلف اکابرین نے جوالگ الگ توجیہات کی ہیں ان سب کا احاطہ کیاگیا ہے مثلاً علامہ سندھی کی تقریریہ ہے،علامہ کشمیریؒ کایہ خیال ہے،ابن حجرؒ کی توجیہ اس طرح ہے ، جب کہ علامہ عثمانی نے یہ تاو یل کی ہے،وغیرہ وغیرہ۔ (۱۱) اگرکوئی عقیدہ پرمشتمل مسئلہ آگیاتو اس کومالہٗ وماعلیہ بیان کرنے کا اہتمام ہے مثلاً:مسئلۂ عصمت انبیاء آیاتوعصمت کی توضیح کے بعد اہل سنت والجماعت کاکیاعقیدہ ہے اس پر فریق مخالف کاکیانظریہ ہے ان کاکیاردہے، وغیرہ ۔ (۱۲) حدیث پاک کی تشریح کے دوران جابجا علوم بلاغت کی چاشنی بھی ملے گی ۔ الغرض یہ شرح’’آں چہ خوباں ہمہ دارندتوتنہاداری‘‘کاآئینہ دارہے یایہ کہ علوم و فنون کا بحرناپیداکنارکامصداق ہے۔