قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
ماقبل کی تین جلدوں میں فقیہ گجرات،محدث وقت حضرت مفتی احمدصاحب خا ن پوری،حضرت شیخ زکریا ؒکے علوم کے وارث مولانا سید محمدعاقل صاحب صدرالمدرسین جامعہ مظاہرعلوم سہارن پور،ازہرہنددارالعلوم دیوبند کے استاذحدیث،صدرتخصص فی الحدیث،بحرالعلوم حضرت مولانامحمدنعمت اللہ صاحب اعظمی(معروفی)اسی طرح دارا لعلوم دیوبند کے شعبۂ تخصص فی الحدیث کے استاذخاص مولاناعبداللہ صاحب معروفی کا پرمغز مقدمہ اورصاحب افادات کے علوم کے امین مولاناروح الامین صاحب وغیرہ، شخصیا ت کی جامع ومانع تحریرات کے بعد ’’مخمل کی چادرمیں ٹاٹ کا پیوند ‘‘کی ضرورت نہ تھی ، لیکن صاحب زادگانِ حضرت مفتی صاحب مدظلہٗ بالخصوص عزیزم مولاناعبیداللہ اورعبیدالرحمن سلمہماکامخلصانہ مطالبہ رہا تو اپنی سعادت سمجھ کرکتاب ہذاپرکسی طرح کاتبصرہ کرنے کے بجائے خصوصیات ’’اسعادالقاری‘‘کوادباً پیش کرتے ہوئے اپنے نوک قلم کو دائرہ ٔ ادب میں رکھ کرکچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ تمام متقدمین شراح کی عظمت ورفعت اورمشقت وجدجہد بل کہ افادیت کا اعتراف اوران کو سلام ِاحترام کرتے ہوئے ،عرض ہے کہ ’’اسعادالقاری‘‘ایسی شرح ہے جو سیکڑوں شروحات کی ورق گردانی سے مستغنی کردے اور قاری کوسعادت ِ فہم ِحدیث عطافرماکرمحدثین کے زمرہ میں شامل فرمادے،کیوں کہ اس کتاب کی کئی منفرد خصوصیا ت ہیں ،مثلاً: (۱) اس کتاب میں ازاول تاآخر ربط ومناسبات بین الابواب کااہتمام کیا گیا ہے ۔ (۲) نیزاس شرح میں مقصدترجمۂ بخاری کوبھی اجاگرکیاگیاہے۔ (۳) اس شرح میں واردفی السنداشخاص ورجال کے تعارف کابھی اہتمام کیاگیا ہے،جوآج کل نایاب نہ سہی کم یاب ضرورہے۔