احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
پس رہے گا زمین میں ’’فیبعث اﷲ عیسیٰ بن مریم کانہ عروۃ بن مسعود فیطلبہ فیھلکہ (مسلم ج۲ ص۴۰۳) کذافی المشکوٰۃ باب لاتقوم الساعۃ‘‘پس بھیجے گا اﷲ عیسیٰ بن مریم کو گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں۔ پس وہ ڈھونڈیں گے دجال کوپس ہلاک کریں گے اس کو۔
واضح باد کہ پہلی حدیث میں جس مسیح علیہ السلام کو آپﷺ نے آسمان پر دیکھا۔ دوسری حدیث میں اسی کا نزول بتایا۔ جس سے صاف ثابت ہوا کہ وہی مسیح بن مریم رسول اﷲ تشریف لائیں گے نہ کہ گورداسپوری مثیل مسیح۔
۳… ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں مرفوعاً عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے: ’’قال لما کان لیلۃ اسری برسول اﷲﷺ لقی ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ فتذاکروا الساعۃ فبدأ بابراھیم فسالوہ عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سألوا موسیٰ فلم یکن عندہ علم فردالحدیث الی عیسیٰ بن مریم فقال قد عھد الی فیما دون وجبتھا فاما وجبتھا فلا یعلمھا الا اﷲ فذکرخروج الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم (ابن ماجہ ص۲۹۹)‘‘
یعنی شب معراج میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کے وقت قیامت کا تذکرہ شروع ہوا۔ سب نے اس کے وقت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ آخر حضرت مسیح علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا علم تو مجھے بھی نہیں، البتہ مجھ سے وعدہ ہوا ہے قرب قیامت کے نازل ہونے کا۔ پس آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔
اسی طرح دیگر بہت سی احادیث سے قرب قیامت کے نزول مسیح کا ثبوت ملتا ہے۔ جو حیات مسیح پر صاف اورصریح دال ہیں۔
نیز قرآن مجید پارہ ۱۳سورئہ رعد میں ارشاد الٰہی ہے:’’ولقد ارسلنا رسلامن قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ‘‘{اے نبی! ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو اولاد و ازواج والے بنایا تھا۔} چونکہ حضرت مسیح بھی محمد مصطفیﷺ سے پہلے کے رسول ہیں۔ جو بموجب آیت بالا بیوی بچوں والے ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کی بیوی نہ تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے بھی اس پر دستخط موجود ہیں۔(کلام مرزا در ریویو ص۱۲۴)اوراولاد بھی نہ تھی۔ (ص۲۴۶ تریاق ج۱ص۹۹، تریاق ط ۲ والحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء وغیرہ)پس لازم ہوا کہ ابھی تک وہ زندہ ہوں اور بعد نزول بیوی کرکے صاحب اولاد ہو کر فوت ہوں چنانچہ حدیث میں نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے۔