احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
دیا ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اے مسلمانو! اپنے خدائے وحدہ لاشریک لہ کی طرف متوجہ ہو۔ اس کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار کرو۔ نہایت شرمساری کے ساتھ توبہ کرو اور معافی مانگو اور اس بلا کے دفع ہونے کے واسطے دعاکرو۔ ان کی نسبت ارشاد ہوا ہے کہ ’’وما دعاء الکافرین الّا فی ضلال۱؎‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ص۲۳۲) گویا مرزا قادیانی کے خیال میں خدائے وحدہ لاشریک لہ کے آگے سجدہ کرنے والے اوربغیر سجدہ کرنے والے سب برابر ہیں اور کافر ہیں۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ مسلمانوں کا ایسے وقت میںاپنے خدا کی طرف توجہ کرنا اور’’ایاک نعبدوایاک نستعین‘‘ کہنا صحیح ہے یا توجہ لغیر اﷲ جو مرزا بتلاتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا بتلایا ہوا طاعون کا علاج اہل اسلام کی توجہ الیٰ اﷲ کو کفر اور ضلالت قرار دے کر مرزا قادیانی نے طاعون سے بچنے کا جو علاج تجویز کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ان باتوں پر ایمان لاؤ۔ ۱… ’’میں تمام دنیا کا تمام زمانوں میں نجات دینے والا ہوں۔‘‘ (دافع البلاء ص۱،خزائن ج۱۸ص۲۲۰) ۲… ’’مجھے سچے دل سے مسیح موعود مانو۔‘‘ (دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ص۲۲۶) ۳… ’’مجھے اہل بیت رسول سے افضل مانو۔‘‘ (دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ص۲۲۶) ۴… ’’میرے ہاتھ کو اﷲ کا ہاتھ مانو اور میری بیعت کرو۔‘‘ (دافع البلاء ص۶حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶) ۵… ’’مجھے ابن اﷲ اور ابواﷲ مانو اور مجھے برا مت کہو۔‘‘ (دافع البلاء ص۷حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶) ان پانچ ارکان ایمان پرجو مرزا قادیانی نے اسلام کے پانچ ارکان کے مقابلہ میں قائم کئے ہیں۔ بہت کچھ لکھا اورکہاجا سکتا ہے۔ مگر مجھے بحث سے مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ جس قدر لچر پوچ اور خلاف اسلام یہ ہیں، ظاہر ہے جناب سے صرف اس قدر استدعا کرتا ہوں کہ آپ ہی بنظر انصاف دیکھیں کہ: ’’خدائے وحدہ لاشریک پرایمان لانا اور اس پر ایمان لانے کو ہر ایک دعاوی اور آخرت کی تکلیف سے بچاؤ قرار دینا درست علاج ہے یا ایسے شخص کو جو خود صریح کفر و ضلالت میں ۱؎ کافروں کو عرض معروض کرنا محض رائیگاں ہوگا۔