احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
وفات دے دی۔ تو بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں اور ان آیات سے صاف طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ لازم آتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ آئے ہوتے تو اس صورت میں ان کا یہ کہنا کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ میری امت نے میرے بعد کیا عقیدہ اختیار کیا۔ صریحاً جھوٹ ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آئے اور بچشم خود دیکھ جائے کہ اس کی امت بگڑ چکی ہے اور نہ صرف ایک دن بلکہ برابر چالیس سال تک ان کے کفر کی حالت دیکھتا رہے وہ کیونکر قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے کہہ سکتا ہے کہ اپنی امت کی حالت سے محض بے خبر ہوں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۱۷، خزائن ج۲۱ص۲۸۲) حیات مسیح علیہ السلام کی دسویں دلیل جواب اوّل برادران!جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور آپ کی جماعت نے آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ کو وفات مسیح علیہ السلام کے لئے ایک زبردست دلیل بنایا ہوا ہے۔ حالانکہ اس آیت پیش کردہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا مکمل ثبوت ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اﷲ تعالیٰ یہ سوال کرے گا کہ اے عیسیٰ کیا تونے لوگوں کو اس امر کی تبلیغ کی تھی۔ ’’الٰھین من دون اﷲ‘‘یعنی مجھے اورمیری ماںکو سوا اﷲ کے دو معبود پکارو حضرت ابن مریم علیہ السلام عرض کریںگے’’ان اقول مالیس لی بحق‘‘ باری تعالیٰ یہ میرا کیونکر حق تھا کہ میں لوگوں کو اس قسم کی تبلیغ کرتا۔ میں تو ’’ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم‘‘ کہتا رہا ہوں کہ عبادت کرو جو میر ا اورتمہارا رب ہے۔(یعنی وحدہ لاشریک کی) ’’وکنت علیھم شھیداً‘‘ اور میں ہوں اوپر ان کے شاہد(اس بات کا کہ میں نے ان کو کبھی نہیں کہا کہ تم میری عبادت کرو۔’’مادمت فیھم فلما توفیتنی‘‘پس جب تک رہا ہوں میں بیچ ان کے پس جب تو نے مجھے موت دے دی۔ تھا تو ہی نگہبان اوپران کے۔ الف… مذکورہ بالا آیت کے ترجمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے بگڑنے سے بخوبی خبردار ہوںگے۔ ب… اگر بے خبری ہوتی جیساکہ جناب مرزا قادیانی اورآپ کی جماعت کا عقیدہ ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور پکار پکار کر عرض کرتے کہ باری تعالیٰ! میں نے ایسی تبلیغ نہیں کی کہ مجھے اورمیری ماں کو دو معبود پکارو اور نہ میری قوم نے ہی مجھے معبود پکارا ہے۔