احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
وقت ہوتا ہے۔ شریعت میں اس کی حدودو شرائط مقرر ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں حکم ہے کہ ’’نماز پڑھو۔‘‘ تو کیا اس حکم کی تعمیل میں ہر وقت نماز پڑھتے رہیں؟ ہرگز نہیں! بلکہ ہر نماز کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے تب نماز پڑھیں۔ نماز بعد بلوغت فرض ہوتی ہے اور زکوٰۃ بعد مال۔
جب مسیح علیہ السلام بچے تھے، نماز فرض نہ تھی۔ بالغ ہوئے حکم بجالائے۔ جب مال تھا زکوٰۃ دیتے تھے۔ اب آسمان پر ان کے پاس مال نہیں زکوٰۃ کیسے دیں؟پہلے تم ان کے پاس مال ہونا ثابت کرو۔ پھر پوچھو کہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں اور سنو! حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبیوں کا دین واحد ہے بدیں لحاظ موسیٰ علیہ السلام پر بھی زکوٰۃ فرض ہوئی۔ بتلائیے جب وہ آپ کے نزدیک آسمان پر زندہ ہیںتو زکوٰۃ کسے دیتے ہیں اور ان کے پاس روپیہ کس قدر ہے؟
’’فما جوابکم فھو جوابنا‘‘ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔
مرزائی اعتراض… حیات مسیح سے خلود لازم؟
قرآن مجید میں ہے:’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلدا فان مت فہم الخلدون (الانبیائ)‘‘{ہم نے کسی بشر کے لئے ہمیشہ کی زندگی نہیں رکھی۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام کو زندہ اور محمد مصطفیﷺ کو فوت شدہ ماننا قابل شرم و ہتک نبوی ہے۔}
جواب اعتراض اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ اول یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا کیوں قابل شرم و ہتک نبوت نہیں؟ جواب نمبر (۲) مسیح علیہ السلام کے لئے بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے:’’وان من اہل الکتاب الالیؤمنن بہ قبل موتہ (نسائ:۱۵۹)‘‘ یعنی وفات مسیح کے قبل ہر اہل کتاب ایمان لے آئے گا۔ اسی حدیث شریف میں ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا:’’ثم یموت فیدفن معی فی قبری‘‘ غرض مسیح کو موت آئے گی۔ ہم کب کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیںگے۔
مرزائی اعتراض… بعدی سے مراد موت؟
قرآن مجید میں ہے :’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)‘‘ یعنی {عیسیٰ نے کہا تھا کہ میرے بعد احمد رسول آئے گا۔}’’بعد‘‘ سے مراد وفات ہے۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں، فوت ہو گئے۔
جواب اعتراض مرزائی دوستو! سوائے عمومات سے استدلال کرنے کے کوئی خاص اور صریح دلیل بھی تمہارے پاس ہے؟ ہرگز نہیں۔ سنو! ہر جگہ ’’بعد‘‘ سے مراد وفات لینا کتاب و سنت