قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
اے طائر لا ہو تی اس رز ق سے مو ت ا چھی جس ر زق سے آ تی ہو پر وا ز میں کو تا ہی کسی نے ابو اسید ؒ سے سو ا ل کیا، تم کہا ں سے کھا تے ہو؟ انہو ں نے جو ا ب دیا کہ اللہ کے پا س سے ، تو اس نے پھرسو ا ل کیا کہ کیا اللہ تم پر آ سما ن سے درہم و دینار بر سا تا ہے ؟ تو انہو ں نے فر ما یا کہ سنو ! یہ زمین اسی کی ہے ، یہ آ سما ن اسی کا ، اگر میر ا رزق آ سما ن سے نہ آئے تو وہ مجھے زمین سے ضرور دے گا،پھر انہو ں نے یہ شعرپڑھا ؎ کَیْفَ أخَافُ الرِّ زْقَ وَاللّٰہُ رَازِقِیْ وَرَزَّاقُ ہٰذَاالْخَلْقِ فِیْ الْعُسْرِوَالْیُسْرٖ تَکَفَّلَ بِالرِّ زْقِ لِلْخَلْقِ کُلِّہِمٖ لِلضَّبِّ فِیْ الْبَیْدَائِ وَالْحُوْتِ فِیْ الْبَحْرٖ مجھے رزق کا ڈ ر کیو ں ہو جب کہ مجھے اللہ ر زق دینے والاہے اوروہ اس مخلوق کو تنگی اورکشادگی میں رزق دینے والاہے ،اس نے تمام مخلوق کے رزق کی ضما نت لے رکھی ہے،گوہ کے لیے اس کے بل میں اور مچھلی کے لیے در یا میں ۔ (تفسیرقرطبی) بہر حا ل اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دا ر الا سبا ب بنا یا ہے ، تو رزق کو تلا ش کر نا معیو ب نہیں ،ہاں البتہ غلط طریقہ سے حصو لِ رزق معیوب ہے ، اسی کو کسی نے یو ں تعبیر کیا ہے کہ ع تلا ش رزق تو ہو مگر رزا ق کو بھلا کے نہیں اورایسابھی نہ ہوکہ دیکھنے والایہ کہنے لگے ؎ خداکوبھول گئے لوگ فکر روزی میں خیال رزق ہے رزاق کا خیال نہیں اللہ تعالیٰ مذکورہ تمام صفات پر ہم سب کو عمل پیراہونے کی توفیق عطافرمائے۔ ززززززززززززززز