قطرہ قطرہ سمندر بنام نگارشات فلاحی |
…ختلف موØ |
|
اپنے دست ِمبارک سے نصیحت تحریرفرمائی اورلکھاکہ’’تقویٰ،تواضع اختیارکیا جاو ے اور اختلاط سے کامل احتیاط کیا جائے‘‘حضرت موصوف ؒ کایہ مکتوب وملفوظ سینکڑوں کتابو ں کالب لباب اور نچوڑ ہے اور یہ بھی اہلِ علم کے درمیان معروف ہے کہ دو لفظ بولے اور لکھے جاتے ہے، ایک نصیحت اور دوسرا وصیت۔نصیحت پرخلوص،بے غرض اورہمدردی کے کلمات کو کہا جاتا ہے،جب کہ وصیت پر سوزوپر دردکلمات کا نام ہے عام طور پرنصیحت کسی وقت ،کسی زمان او رکسی شخصیت کی محتاج نہیں ،جب کہ وصیت کا ظہور عموما لمحات وصال کے فراق میں تبدیلی کے موقع پر ہوتا ہے۔ ہمارے عزیز بل کہ عزیز ترین ، مخلص بل کہ نہایت ہی مخلص، بڑوں میں بڑی شان کے یعنی تواضع کے خوگر چھوٹوں میں عالی شان کے، یعنی عالمانہ وقاروکردار کے حامل، صاحب تصانیف کثیرہ مفیدہ ، حضرت مولانا مجتبیٰ بن مولانا احمد لولات صاحبؒ (شیخ الحدیث درالعلوم ہدایت الاسلام،عالی پور)کاخدابھلاکرے کہ وہ اللہ کی طرف سے مجتبیٰ بھی ہیں اور بندوں کے درمیان مصطفی بھی، موفق من اللہ بھی ہیں اورمشغول زندگی میں بہترزندگی کاامتزاج بھی،جہاں رہے تعمیر ی اندازمیں کام کرتے رہے،انہو ں نے اپنے ۱۸؍ سالہ تعلیمی، تدریسی طویل زندگی کے دوران بے شمار علمی کارناموں میں ایک اہم کارنامہ یہ انجام دیا کہ اپنے ہونہار ، قدردان طلبہ کی مادی او ظاہری خیر خواہی کے ساتھ ساتھ باطنی اور روحانی تربیت کے لیے بہت ہی زیادہ خیال وفکر سے کام لیا، چناں چہ ہرسال اپنے متعلقین طلبہ بالخصوص دورۂ حدیث شریف ومشکوٰۃشریف کے طلبہ کو جمعرات وجمعہ کی فرصت میں علمی کام سپرد کرتے ، اور سنیچر کوجب اس کامحاسبہ کرتے تو تشجیعاًکچھ کلماتِ ثمینہ باحوالہ تحریر فرماتے جس میں طلبۂ عزیز کی نفسیات کا پوراپورا لحاظ کرتے، گویا