احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
کو حضرت محی الدین ابن عربی شیخ اکبر نے دو شعروں میں لکھا ہے ؎ اذافقدالزمان علے حروف بہ بسم اﷲ فالمھدی قاما وذورات الخروج عقیب صوم الابلغہ من عندی سلاما واضح ہو کہ یہ سب اقوال ان احادیث کے خلاف ہیں جن کا اندراج ہم نے اوپر کیا ہے۔ احادیث کے منشاء کے موافق مہدی کا خروج اس وقت ہونا چاہئے۔ جبکہ دنیا میں جورو ظلم بھر گیا ہوتا کہ مہدی موعود خروج کرکے دنیا کو بجائے جوروظلم کے عدل سے بھر دیں۔ پس وہ زمانہ ہنوز نہیں آیا۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کر دیا ہے تو پھر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں مہدی موعود ہوں، کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ اگر صحیح ترمذی شریف مطبوعہ اصح المطابع لکھنؤ مطبوعہ ۱۳۱۶ھ کے صفحہ ۳۲۵ باب ماجاء فی فتنۃ الدجال کے تحت صفحہ ۳۲۶ تک ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت طویل حدیثیں ہیں۔ جن میں دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول وغیرہ کے متعلق حالات درج ہیں اور ان حدیثوں میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو مسیح کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں دنیا کی کیا حالت ہوگی۔ بخوف طوالت ہم نے ان کل حدیثوں کو یہاںنقل نہیں کیا۔ پس یہی وجہ تھی کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا زمانہ نہیں تھا اور قبل از وقت دعویٰ کئے گئے تھے۔ اس لئے ہم نے ان دعوؤں کو نہیں تسلیم کیا۔جو اس زمانہ سے قبل بعض حضرات نے کئے تھے۔ سوال نمبر۱۰ کے جواب میں میرے دوست فرماتے ہیںکہ راوی کو شک ہے۔ خود راوی نے کہا ہے ’’رجل منی اومن اھل بیتی‘‘ بلکہ بعض اسی پایہ کی حدیثوں میںامتی کا لفظ آیا ہے۔ یہ بیان بھی تسلیم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے کہ میں نے چار حدیثوں کا حوالہ دیا ہے۔ البتہ ان میں سے ایک حدیث ’’اومن اھل بیتی‘‘ لکھا ہے۔لیکن دوسری حدیثوں میں صاف یہ الفاظ ہیں’’المہدی من عترتی ومن اولاد فاطمۃ رجلا من عترتی واھل بیتی‘‘ ان سب حدیثوں کو ملا کر اس کا مطلب دیکھا جائے جس میں ’’رجلامنی او من اہل بیتی‘‘ ہے تو صاف طور پر میرے لائق دوست کے اعتراض کی تردید ہو جاتی ہے۔ صاف الفا ظ کو نظر انداز کر کے یہ بیان کرنا کہ راوی کو خود شبہ ہے کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ اگر ایک حدیث پر آپ کو شبہ ہے تو دوسری متعدد حدیثوں پر آپ کیا شبہ کریں گے؟ اس میں تو کوئی لفظ آپ کی تائید نہیں کرتا آپ کے اعتراض کے لحاظ سے بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ مہدی کا ’’منی اومن اھل بیتی‘‘ میں داخل ہونا ضرور ہے۔ مرزا قادیانی نہ منی میں نہ