احتساب قادیانیت جلد نمبر 53 |
|
ہوتا ہے کہ مفتری کو ۲۳ سال سے زیادہ مہلت مل جاتی ہے اور غیرت الٰہی اس کو نہیں پکڑتی۔ ۳… اگر کوئی وظیفہ خوار مرزائی مولوی یہ کہے کہ ’’شاتان تذبحان‘‘ کے الہام کے وقت اس کی تشریح مرزا قادیانی کی سمجھ میں نہیں آئی یانہیں سمجھے تو سترہ سال تک مرزا قادیانی کا غبی، کند ذہن اور اسرار الٰہیہ سے ناواقف ہونا لازم آتا ہے اور اﷲ تعالیٰ بھی جاہل اور عاجز ٹھہرتا ہے کہ ایک کند ذہن اورغبی کی غباوت معلوم نہ کر سکا اور اس کی غباوت کے مطابق مشرح و مفصل کلام کرنے سے عاجز رہا۔ نعوذ باﷲ من ذلک! اور جب مرزا قادیانی نے ۱۷ سال کے بعد اس کی تشریح کی بھی تو وہ بھی غلط مراد الٰہی کے برخلاف اور چھ سال تک اس پرڈٹے رہے اوراس کی صورت میں بھی وہی دوسرا اعتراض وارد ہو گا۔ ۴… جو شخص اپنی مزعومہ وحی کا مطلب ۲۳ سال تک سمجھ نہیں سکتا اور اگر سمجھتا ہے تو مراد الٰہی کے برخلاف۔ وہ کتاب اﷲ اور نبی کریمﷺ کی وحی کیا سمجھ سکتا ہے اور اس کے خود ساختہ حقائق و معارف قرآنی پر کیا اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ خلیفہ صاحب! آپ ان مذکورہ سوالات کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں دے سکتے کہ اﷲ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوںپر قرآن و حدیث کے غلط اور خود ساختہ معنوں کی آڑ میں الزام لگائیں کہ دیکھو فلاں نبی نے اپنی وحی کے معنی غلط سمجھے۔ فلاں رسول کوغلط فہمی ہوئی۔ گویا مطلب یہ کہ وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح سچے نبی نہ تھے۔ (العیاذ باﷲ) خلاصہ کلام ’’شاتان تذبحان‘‘(دو بکریاں ذبح کی جائیںگی) یہ ایک گول مول الہام ہے۔ ہم اس کے قائل کو خواہ وہ کذاب اعظم ہی کیوں نہ ہو، ہرگز ہرگز جھٹلا نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ فقرہ ہر زماں و مکان میں صادق ہے اور مرزا قادیانی کے فتویٰ کی رو سے پیش گوئی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ نہیں ہے اور حیرت انگیز یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آسمانی خسر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی وفات کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۷، خزائن ج۱۱ ص۳۴۱) پر اپنے اس گول مول الہام کی جو تشریح کی تھی کہ ایک بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی محمدی بیگم کا خاوند) ہے۔ اس تشریح کے مطابق یہ گول مول الہام غلط نکلا۔ کیونکہ مرزا احمدبیگ کا داماد مرزا سلطان محمداب تک زندہ موجود ہے اور پھر اس گول مول الہام کو عبدالرحمن اور عبداللطیف کے کابل