مدنى صاحب خانىوال مىں مقىم ہوتے تو آپ ىہى برتاؤ کرتے کہ نہ خط لکھتے نہ ملنے آتے نہ کبھى رخصت لے کر خاص طور سے ملنے آتے۔ کىا معنىٰ ملتان پانچ دن جانے کى فرصت نکل سکتى ہے ، مظفر گڑھ جانے کى فرصت ہوسکتى ہے اصلاح کے لئے اىک دن تو درکنار چند منٹ ہفتہ عشرہ مىں خط لکھنے کىلئے نہىں نکل سکتے۔ ىہ عدم تعلق ہے اور اصلاح کو اىسا گھٹىا سمجھ لىا۔ آپ کو معلوم نہىں اصلاحِ اَخلاق فرض ہے اور بىعت سنت اور وہ بھى مستحب کے درجہ مىں۔ بىعت کىلئے تو اتنى کوشش اور اصلاح کى فکر کچھ نہىں۔ مانا کہ اىک بہت بڑا حکىم آنے والا تھا اور اصلاح نفس کا سول سرجن آرہا تھا لىکن اوّل تو سول سرجن نے آپرىشن کا کام چھوڑ دىا ہو اور دوسرا کام محض زبانى دوائى کا شروع کر رکھا ہو تو اس سے آپرىشن کى توقع بے کار ہے اور پھر جب ہزاروں مرىضوں مىں سول سرجن سے ملنا اور بات تک نہ ہو سکتا ہو حال تک نہ کہا جاتا ہواىسى ملاقات سے کىا فائدہ ۔ کوئى عقلمند اىسا نہ ہوگا جو اس ملاقات کو علاج کے لئے فائدہ مند بتلائے۔ ہاں صرف زىارت مقصود ہو تو پھر ڈاکٹر اور طبىب کى صرف زىارت پر کىوں اکتفا نہىں کىا جاتا ۔ وہاں تو طبىب اگر نبض دىکھ کر کہہ بھى دے مىں سمجھ گىا پھر بھى بار بار اپنى حالت دہرائى جاتى ہے کہ درد ہے، پىٹ پر اپھارہ بھى ہے وغىرہ وغىرہ، اور جب تک طبىب پورى طرح نبض نہ دىکھ لے اور حالات سن کر جواب نہىں دىتا تسلى نہىں ہوتى۔ اور ىہاں اصلاح کىلئے بس صرف زىارت اور وہ بھى دور سے کافى اور جلسوں مىں آنا اور شرکت کرنا ہمىشہ ىہى ہوتا ہے کہ صرف زىارت ہوسکتى علاج نہىں ہو سکتا تو بے کا رٹھىرا۔ تو بے کار کام